پچاس لاکھ روپے کی مالیت دو بھائیوں اور تین بہنوں میں کیسے تقسیم ہوگی ؟:جامعہ نعیمیہ ،اسلام آباد

پچاس لاکھ روپے کی مالیت دو بھائیوں اور تین بہنوں سے کیسے تقسیم ہوگی ؟:مفتی گلزار احمد نعیمی

سوال
میرے والد فوت ہوگئے ہیں اور انہوں نےوراثت میں ایک کاروبار (جنرل سٹور)اور ایک پانچ مرلے کا پلاٹ چھوڑا ہے ان دونوں کی مالیت 50 لاکھ ہے.
ہم دو بھائی اور تین بہنیں ہیں ہم اسکو کیسے تقسیم کریں؟
شریعت کے مطابق جواب عنایت فرمادیں.
.آپکی بہت نوازش ہوگی

سائل :امجد علی (جی سیون ڈو،اسلام آباد )

الجواب
صورت مسئولہ میں طریقہ کار یہ ہوگا کہ
سب سے پہلے میت کی موت کے بعد اسکی تجہیزوتکفین کے اخرجات اسکی وراثت سے کیے جائیں گے
پھر دیکھا جائے گا کہ میت پر کوئی قرض تو نہیں ہے جو واجب الادا تھا.
اگر ہے تو اسکی چھوڑی ہوئی وراثت سے قرض کی ادائیگی کی جائے گی

ہمارے ہاں عموما وصیت کارواج بہت کم ہے لیکن اگر میت نے کسی کے حق میں وصیت کی تھی تو اس وصیت کو پورا کیا جائے گا
تجہیزو تکفین,قرض کی ادائیگی اور وصیت کی رقوم جمع کر کے کل وراثت سے منہا کی جائیں گی

بقیہ رقم کو سات(7)حصوں میں تقسیم کیا جائے گا
آپ دو بھائی (جو میت کے بیٹے ہیں) بقیہ کل رقم کا 2/7 ایک بھائی اور 2/7 دوسرا بھائی وصول کرے گا
جبکہ
آپکی تینوں بہنوں (جو میت کی بیٹیاں ہیں)میں سے ہر ایک کل رقم کابقیہ 1/7 ہر اہک وصول کرے گی.
علم میراث کی کتب میں وراثت کی تقسیم کا طریقہ ایسے ہی لکھا گیا ہے

آپ سے گزارش ہے کہ
اپنی بہنوں کا جوشرعی حصہ بنتا ہے وہ مکمل ادا کریں ورنہ آپ اللہ کے نزدیک مجرم ہوں گے.آپ پر ان کا حصہ شرعا حرام ہے, بلا کم کاست ان کا حصہ انہیں ادا کریں ورنہ قرآن حکیم کے مطابق جو رقم انکے حصہ کی آپ دبوچ لیں گے وہ آپ پر اور آپکی نسلوں پر حرام رہے گی,یہ آگ ہوگی جو آپ اپنے پیٹ میں ڈالیں گے اور یہ آگ آپکی نسلوں کو جلائے گی.
اگرآپکی بہنوں میں سے کوئی اپنی آزادانہ مرضی سے اپنی ملکیت میں سے آپ کو ہبہ کر دے تو یہ آپ کے لیے جائز ہے.لیکن پہلے سب کو آپ انکے حصوں کا باضابطہ طور پر مالک بنائیں.
ھذا ماعندی واللہ اعلم
گلزار احمد نعیمی
مہتمم
جامعہ نعیمیہ.اسلام آباد نیلم روڈ. جی-نائن/تھری.اسلام آباد

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of
Show Buttons
Hide Buttons