نماز میں دل لگانے کی تدبیر :امام غزالی

نماز میں دل لگانے کی تدبیر:
نمازمیں غفلت دو وجہ سے ہوتی ہے،ایک سبب ظاہری جبکہ دوسرا باطنی ہے ۔
ظاہری سبب ایسی جگہ نمازپڑھنا ہے ،جہاں توجہ ادھر اُدھر متوجہ ہوجاتی ہے ،اس سے بچنے کی تدبیر یہ ہے کہ ایسی جگہ نماز پڑھی جائے ،جہاں کوئی چیز سنائی اور دکھا ئی نہ دے ،بہتر ہے ،انسان دوران نماز اپنی آنکھیں بھی بند کر لے ،کیونکہ دل، آنکھ اور کان کے تابع ہے۔
باطنی سبب خیالات اور وساوس کا آنا ہے ،اس سے بچنے کی تدبیر یہ ہے ،پہلے ضروری کام کاج کرلے ،پھر نماز پڑھے،دوسرا طریقہ یہ ہے کہ نماز میں جو کچھ پڑھا جاتا ہے ،اس کے معانی میں غور و فکر کرے ،تیسرا طریقہ یہ ہے کہ جس چیزکے باکثرت خیال آتے ہیں ،اس سے جان چھڑانے کی صورت نکالے ،جیسے ایک مرتبہ دوران نماز حضور کا دہیان کپڑے کی کڑھائی کی طرف گیا ،تو آپ نے وہ قمیص دوبارہ نہیں پہنی، اسی وجہ سے حضرت طلحہ نے اپنا پوراباغ صدقہ کر دیا تھا۔
(ملخص ازکیمیائے سعادت ،امام غزالی )

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of
Show Buttons
Hide Buttons