مغرب کے پجاری اور آزادی رائے

تحریر: ڈاکٹر محمد سرفراز احمد نعیمیؒ

’’انسان‘‘ کی کسی شخصیت ، فرد،قوم، ملک، ادارے اور شعبے سے الفت اور وابستگی کے اطوار مختلف زمانوں اور حالات میں مختلف انداز سے ظاہر ہوتے رہے ہیں۔ تغیرات زمانے کے ساتھ ساتھ ان کے انداز میں کمی بیشی اور افراط و تفریط کے مظاہرے بھی ہوئے ۔ کبھی کبھی ایسی وابستگیاں شکست و ریخت کا شکار بھی ہوئیں اور تاریخ کی کہنگی کے ساتھ ساتھ ان میں کہنہ پن بھی پیدا ہوتا رہا لیکن دین و مذہب سے باوجود تغیرات زمانہ کے وابستگی اور تعلق کا پہلو مکمل طور پر کبھی بھی ختم نہ ہوسکا اور نہ ہوسکے گا۔ معاشرہ اپنے آپ کو کتنا ہی جدت پسند قرار دینے کا دعوی کیوں نہ کرے لیکن پھر بھی کسی نہ کسی انداز میں اس سے وابستہ رہتا ہے۔ یہ اسی رابطے ہی کا تو نتیجہ ہے کہ مغرب اپنے آپ کو کتنا ہی مذہب سے نفرت کرنے والا اور مذہب کو افیون کی گولی قرار دینے والا ہی کیوں نہ ہو جب بھی مواقع اور حالات میسر آئیں گے اپنے آپ میں مضمر اور پوشیدہ وابستگی کے پردے کو چاک کرکے عریاں ہونے میں سستی کا مظاہرہ نہیں کر پاتا۔ مذہب سے دوری کے دعویٰ کے باوجود جہاں کہیں اسلام اور مسلمانوں کے بطور مذہب اور قوم ترقی کا پہلو سامنے آتا ہے اسلام دشمنی کا آغاز بھی ساتھ ہی ہوجاتا ہے۔ ’’ توہین رسالت‘‘ کے قانون کی مخالفت بھی اسی پس منظر کی آئینہ دار ہے۔
قانون کی نگاہ میں بھی تمام وابستگیوں سے زیادہ مضبوط وابستگی ’’دین ومذہب‘‘ کی قرار پاتی ہے ۔ چنانچہ اس وابستگی کو حد اعتدال میں رکھنے کے لیے ’’انگریز‘‘ آقاؤں نے اپنے دور’’ بادشاہت ‘‘1927ء میں دفعہ295۔ الف( ایکٹ ترمیمی فوجداری قانون 1927) کا اضافہ اسی پس منظر میں کیا جس کی عبارت سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ ’’توہین مذہب‘‘ کی کتنی اہمیت ہے۔
295۔ الف( مجموعہ تغریرات پاکستان) کی مکمل عبارت یہ ہے عنوان:’’ بالارادہ اور عداوتی افعال کے زریعے سے کسی جماعت کے مذہبی احساسات کو بذریعہ توہین مذہب یا مذہبی عقائد کے بھڑ کانا‘‘
دفعہ295۔الف۔ جو کوئی شخص ارادتاً اور عداوت کی نیت سے پاکستان کے شہریوں کی کسی جماعت کے مذہبی احساسات کو بھڑ کائے(OUTRAGE) بذریعہ الفاظ زبانی یا تحریری یا نظر آنے والی علامات ، اس جماعت کے اعتقادات مذہبی کی توہین کرے یا توہین کرنے کا اقدام کرے، اس کو دونوں قسموں میں کسی قسم کی قید کی سزا دی جائے گی۔ جس کی میعاد دوبرس تک ہوسکتی ہے یا جرمانے کی سزایا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔
ضابطہ۔ ناقابل دست اندازی، وارنٹ، ناقابل ضمانت، ناقابل راضی نامہ، مجسٹریٹ اول۔
یہ دفعہ 1927میں زیادہ کی گئی تاکہ اگر کسی مذہب کے بانی پر توہین آمیز حملہ کیا جائے تو ایسا کرنے والا سزا کا مستحق قرار پائے۔
’’آزادی رائے‘‘کے ’’متوالے‘‘ انگریزوں کے دور سے اس دفعہ کے اضافہ کرنے پر ابھی تک کیوں خاموش رہے؟ شاید اس لیے کہ چونکہ یہ مغرب کے آقاؤں نے بنایا تھا۔ اور ان کا ہر بنایا ہوا قانون چاہے وہ آزادی رائے ہو پابندیاں ہی کیوں نہ عائد کرتا ہو قابل قبول ہے لیکن آزاد شدہ مملکت کے قانون ساز ادارے کا بنایا ہوا قانون ’’قابل مذمت قرار‘‘ پاتا ہے جس سے مغرب کی پجاریوں کی دورنگی اور منافقت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
اور جب اس قانون کے باوجود’’ توہین رسالت ‘‘و ’’توہین قرآن ‘‘کی مسلسل توہین آمیز کاروائیوں پر قابو نہ پایا جاسکا تو اس امر کی ضرورت محسوس کی گئی کہ ایسا قانون بنایا جائے جس کے ذریعے ایسی توہین آمیز کاروائیوں کا انسداد کیا جاسکے اور ایسا قانون قرآن و سنت کی تعلیمات کے عین مطابق بھی ہو۔ مغرب کے پجاریوں کی اس سوچ پر تعجب ہے کہ وہ قانون سازی پر تو اعتراض کررہے ہیں اور اسے آزادی رائے کے خلاف قراردے رہے ہیں لیکن’’ کلام اﷲ‘‘ کی توہین کرنے والوں کی مذمت کرنے کے لیے ان کی زبانوں پر تالے پڑ جاتے ہیں اور ان کی توہین آمیز کاروائیوں کے خلاف ایک جملہ بھی کہنا اپنی’’ توہین‘‘ تصور کرتے ہیں جبکہ وہ اس امر کو بخوبی جانتے ہیں کہ جرائم کا تسلسل اور توہین آمیز کاروائیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہی نئی قانون سازی کا ذریعہ بنا کرتا ہے اور نئے نئے قانونوں کو وجود میں لایا کرتا ہے۔ چنانچہ رسمی پس منظرکے اندر1982میں دفعہ 295 ب کا اضافہ مجموعہ تعزیرات پاکستان میں کرنا پڑا ، جس کی عبارت سے یہ امر بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ انسان کے کلام کی بہ نسبت خالق کائنات کا کلام زیادہ قابل تعظیم و تکریم ہے۔
’’مغرب کے پجاریوں‘‘ کی ’’آزاد رائے‘‘ کے حوالے سے اس سوچ پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے کہ ان کے نزدیک ایک انسان کے جملے اور الفاظ ’’خالق انسان‘‘’’ اﷲتعالیٰ ‘‘کے کلمات سے زیادہ محترم قابل تکریم و تعظیم ہیں۔
نیز
دفعہ 295ب کے الفاظ سے اس امر کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس میں مقصود صرف اور صرف قرآن پاک کی حفاظت ہے۔
عنوان۔ قرآ ن پاک کے نسخے کی بے حرمتی وغیرہ کرنا۔
جو کوئی قرآن پاک کے نسخے یا اس کے کسی اقتباس کی عمداً بے حرمتی کرے، اسے نقصان پہنچائے یا اس کی بے ادبی کرے یا اسے توہین آمیز طریقے سے یا کسی غیر قانونی مقصد کیلئے استعمال کرے تو وہ عمر قید کی سزا کا مستو جب ہوگا۔
قانون کی عبادت میں کسی قسم کی مذہبی منافرت پائی جارہی ہے۔ کسی فرقہ، طبقہ اور مذہب کے خلاف نہیں بلکہ اس شخص کے خلاف ہے جو اس جرم کا ارتکاب کرتا ہے حتیٰ کہ خدانخواستہ اگر ایک مسلمان ہونے کا دعویدار بھی کسی طرح کی ہتک آمیز حرکت کرے گا تو وہ بھی موجب سزا ہوگا۔ یہ قانون کسی بھی مذہب اور دین کے ماننے کے خلاف نہیں بلکہ صرف اور صرف ‘‘قرآن عظیم ‘‘ کی عظمت کو برقرار رکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔ اگر اس قانون کو بھی غلط معنی پہنائیں جائیں تو ’’آزادی رائے‘‘ کے متوالوں کی عقلوں پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔
’’مغربی افکار‘‘ پر آنکھیں بند کر کے ’’ایمان ‘‘لانے والوں نے ’’سیدھے سادھے‘‘ افراد اور عوام کے ذہنوں میں اس قصور کو پختہ کرنے کی پوری کوشش کی ہے کہ مغربی کے ’’مذہبی رہنما‘‘ حقائق کے خلاف بھی نہ کوئی بات کرتے ہیں اور نہ کہتے ہیں۔ ہمیشہ ان کے اقوال اور افعال ‘‘حقائق‘‘ کے عین مطابق ہوتے ہیں۔ اگر واقعتاً ایسا ہی ہوتا تو پھر ان کا دفعہ سی۔ 295(ت پ) کی مخالفت کرنا حیران کن ہے کیونکہ اس دفعہ کی مخالفت کرنے میں وہ ’’حقائق‘‘ سے اعراض اور روگردانی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ سی ۔295 کا ایک ایک لفظ اور عبارت کا ایک ایک جملہ یہ واضح کررہا ہے کہ اس کا استعمال کسی مذہبی فرقہ، گروہ، جماعت اور طبقہ کیخلاف اس لیے نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اس کا تعلق عیسائی ، یہودی اور غیر مسلم فرقہ سے ہے اور اس لیے اس دفعہ کے مطابق کا روائی کا عمل میں لائی جائے بلکہ اس کے برعکس ہر شخص کیخلاف کاروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے جو ’’ توہین رسالت‘‘ کا ارتکاب کر رہا ہے چاہے وہ اپنے آپ کو مسلمان ہی کہلواتا ہو ۔ ’’توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والے میں یہ تفریق نہیں کی جاسکتی ہے کہ چونکہ وہ غیر مسلم ہے اس لئے قانون عمل میں لایا جائے بلکہ اگر ’’توہین رسالت‘‘ کا ارتکاب کرنے والا خدا نخواستہ مسلمان بھی ہوگا تو اس کیخلاف یہ قانون اسی طرح حرکت کریگا جس طرح غیر مسلم کے خلاف حرکت کرتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس قانون کا اطلاق جتنی قوت سے کافر پر ہوتا ہے اتنی ہی قوت سے توہین کرنیوالے نام نہاد مسلمان کے خلاف بھی ہوتا ہے ۔ یہ قانون تو اندھا ہے جو صرف قانون کی خلاف ورزی کرنیوالے کو دیکھتا ہے اس کے مذہب ، گروہ، جماعت کو نہیں دیکھتا۔
دوسری طرف حکومت کے وزراء اسلام کی تعلیمات کے بارے میں احساس کمتری کا اس حد تک شکار نظر آتے ہیں کہ اس پر کی جانیوالی نکتہ چینی اور دریدہ دینی کا جواب دینے کی بجائے وہ اسلام دشمن افراد کی صفائی پیش کرنے کے سلسلے میں ان سے بھی زیادہ پیش پیش ہوتے ہیں چنانچہ گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں ایک توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں وفاقی وزیر مذیبی امور نے جواب دیتے ہوئے کہا ’’آرچ بشپ آف کنڑبری‘‘ کے حالیہ ریمارکس اسلام یا مسلمانوں کیخلاف نہیں تھے۔ اگر واقعی ’’آرچ بشپ‘‘ کے ریمارکس اسلام یا مسلمانوں کیخلاف نہیں تھے تو چند دن پہلے وزیر موصوف نے کس پس منظر میں موصوف پادری سے اپنی ملاقات میں سی۔295 ان کے خدشات دور کرنے کی کوشش کی تھی؟اگر وہ اسلام یا مسلمانوں کے حق میں تھے’’ تو خدشات ‘‘دور کرنے کا مقصد کیا تھا؟ یہ دو متضاد دعوے کس امرکی غمازی کر رہے ہیں؟
دفعہ سی۔295کیا ہے۔ غالباً اس کو مکمل طور پر پڑھنے کی نہ تو مغرب کے پجاریوں نے اور نہ ہی آزادی رائے کے متوالوں نے اور نہ ہی غیر ملکی مشنری اداروں کے کار پردازوں نے شعوری طور پر کوشش کی ہے ۔ اس قانون کی پوری عبارت میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں ہے جس میں ’’عیسائی‘‘ یا’’ یہودی ‘‘یا’’غیرمسلم ‘‘یا’’ مسلم‘‘ کے لفظ سے توہین کرنے والے کی تعین کی گئی۔ دفعہ سی 295(ت پ) کی مکمل عبارت ملاحصہ فرمائیں۔
عنوان:پیغمبر اسلام کی شان میں توہین آمیز الفاظ و غیرہ استعمال کرنا۔
’’جوکوئی الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہو یا تحریری ، یا موٹی
نقوش کے ذریعے، یا کسی تہمت ، کنایہ یا در پردہ تعریض
کے ذریعے ، بلاواسطہ یا بالواسطہ رسول پاک حضرت محمد صلی
اﷲ علیہ واٰلہ وسلم کے پاک نام کی توہین کریگا تو اسے موت
یا عمر قید کی سزا دی جائیگی اور جرمانہ کی سزا کا بھی
مستو جب ہوگا‘‘
آپ نے قانون کی مکمل عبارت ملاحظہ فرمالی ہوگی کہ اس میں کسی لفظ میں کسی مذہب یا فرقہ کی تعین نہیں کی گئی تو پھر ’’قانون کے پجاریوں اور پجارنیوں ‘‘’ قانون دانوں‘‘ اور ’’قانون دانیوں ‘‘ کا اس قدر واضح قانون کیخلاف آہ وبکا اور آہ و زاری کرنا، شور مچانا ہنگام آرائی کرنا کس امر کی چغلی کھارہا ہے؟
افسوس صد افسوس ایسے مسلمانوں کا جن کے نزدیک ایک ’’گناہ گار‘‘ انسان کی عظمت ایک معصوم عن الخطاء نبی مکرم سے کہیں زیادہ اور ’’ فائق تر‘‘ ہے۔ جب ان دونوں میں وہ تقابل کرنے بیٹھتے ہیں تو انہیں ایک’’ انسان ‘‘اﷲ تعالیٰ کی جانب سے فرستادہ ’’نبی مکرم‘‘ سے زیادہ باعث عزت نظر آتا ہے۔’’ انسان ‘‘کی توہین تو ان کے ’’مزاج شاہانہ‘‘ پر ’’ بارگراں‘‘ قرار پاتی ہے اس لئے ’’ہتک عزت‘‘ کا دعویٰ کرنا قانونی تقاضا ٹھہرا لیکن خالق کائنات کے آخری فرستادہ ’’نبی مکرم‘‘ کی توہین کرنا نہ تو’’ قابل نفرت ‘‘ نہ ’’باعث ننگ و عار‘‘ نہ ’’خلاف انسانیت‘‘ نہ ’’ اخلاقی تعلیمات‘‘ کیخلاف’’ عیسائیت اور یہودیت کی مذہبی تعلیمات ‘‘ کیخلاف بلکہ مغربی تہذیب و تمدن کے ’’اخلاق عالیہ‘‘ کا ’’شاہکار‘‘ نمونہ قرار پاتا ہے۔
مغرب کے پجاریوں اور آزادی رائے کے علمبرداروں کی نگاہ میں ’’ موت کی سزا‘‘ توہین انسانیت کے زمرے میں شمار ہوتی ہے۔ اس لئے صبح و شام ‘‘ موت کی سزا ‘‘ کے خلاف ہنگامہ آرائی کرتے رہتے ہیں اور اسے وحشیانہ ، جابرانہ اور ظالمانہ سزا قرار دیتے ہیں۔ ’’ مغربی افکار‘‘ کے بوجھ تلے ’’ مغربی فلسفہ تعزیر‘‘ کو ’’حقوق انسانی ‘‘ کی قدروں کے حوالے سے دیکھنے میں اس قدر مستغرق رہتے ہیں کہ ’’حقوق اﷲ ‘‘ اور ’’حقوق العباد‘‘ میں امتیاز بھی نہیں کر پاتے اسی کش مکش میں نگاہوں سے یہ بات بھی اوجھل ہوجاتی ہے کہ خود یورپ اور مغرب میں (توہین انسانیت) تو بہت دور کی ہے ’’توہین شہنشاہیت‘‘ بھی ’’قابل تعزیر‘‘ جرم قرار پاتی ہے چنانچہ…………
برطانوی رعایا میں سے جو شخص برطانوی حدود کے اندر یا باہر رہتے ہیں بادشاہ کے دشمنوں سے تعلق رکھے یا بادشاہ ملکہ یا ولی عہد کے موت کے درپے ہو یا اس کا تصور کرے یا بادشاہ کی رفیقہ حیات یا اس کی بڑی بیٹی یا ولی عہدکی بیوی کی بے حرمتی کرے ، بادشاہ کی طرف ہتھیار سے اشارہ کرے یا نشانہ تانے یا ہتھیار اس کے سامنے لائے جس سے مقصود اس کو نقصان پہنچانا، خوف زدہ کرناہو، اسٹیٹ کے مذہب کو تبدیل کرے یا اسٹیٹ کے قوانین کو منسوخ کرنے کے لیے قوت استعمال کرے یہ سب افعال برطانوی قانون کی رو سے عذر کبیر (High Treason) ہے ۔ جس کی سزا ’’موت‘‘ ہے۔ خود جمہوریت کے دوسرے بڑے علم بردار امریکہ میں بادشاہت کے نہ ہو نے کی بنا پر برطانیہ میں جو مقام بادشاہ کو دیا گیا ہے وہی مقام متحدہ امریکہ کی قومی حاکمیت اور وفاقی دستور کو دے کر اسٹیٹ سے غداری کی سزا’’سزائے موت‘‘ کی شکل میں روارکھی گئی ہے۔
چونکہ یہ سب کچھ مغرب میں ہورہا ہے اس لئے اس کے جرم کی ہر سزا کا حکم ’’سر آنکھوں ‘‘ پر اب یہ سزائیں بھی ’’قابل احترام ‘‘ شکل اختیار کر جائیں گی اور اسی پس منظر میں ’’ توہین انسانیت‘‘ کا فلسفہ بھی بدل جائے گااور ان سزاؤں کے دلائے جانے کی جواز کی ترجیحات میں مغربی اقدار کے پجاری ’’ اپنی مزعومہ‘‘ ’’حقوق انسانی‘‘ کی قدروں کو یک لخت پس پشت ڈالتے نظر آئیں گے۔
اسی طرح کے مغربی افکار کی رنگینیوں کو ایک مشہور و معروف قانون دان نے اپنی تالیف لطیف ’’ ناموس رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ واٰ لہ وسلم اور قانون توہین رسالت‘‘ؐ میں خوب خوب روشنی ڈالی ہے جس کے چند اقتباسات پیش خدمت ہیں جس میں یہ ثابت کیا ہے کہ ’’ توہین رسالت‘‘ کی سزا صرف مسلمانوں کے نزدیک قابل مستوجب نہیں بلکہ خود عیسائیوں کے ہاں بھی قابل مستوجب ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں۔
موسوی قانون کے تحت قبل مسیح کے انبیاء کی اہانت اور توراۃ کی بے حرمتی کی سزا’’ سنگسار‘‘ مقررتھی۔ رومن ایمپائر کے شہنشاہ جس ٹینین(Justinian) کا دور حکومت طلوع اسلام سے چند سال قبل 265تا525صدی عیسوی پر محیط ہے رومن لاء کی تدوین کا سہرا بھی اسی سر ہے اور اس کو عدل و انصاف (Justand Justice) کا مظہر بھی سمجھا جاتا ہے ۔ اس نے جب دین مسیحی قبول کر لیا تو قانون موسوی کو منسوخ کرکے انبیائے بنی اسرائیل کی بجائے صرف یسوع کی توہین اور انجیل کی تعلیمات سے انحراف کو سزا’’ سزائے موت‘‘ مقرر کی۔ اس کے دوران قانون ’’ توہین مسیح‘‘ سارے یورپ کی سلطنتوں کا قانون بن گیا۔ روس اور اسکاٹ لینڈ میں اٹھارویں صدی تک اس جرم کی سزا سزائے موت ہی دی جاتی رہی ہے۔
روس میں بالشویک انقلاب کے بعد جب کمیونسٹ حکومت برسراقتدارآئی تو سب سے پہلے اس نے دین و مذہب کو سیاست اور ریاست سے کلیتاً خارج کیا اس کے بعد یہاں سزائے موت برقرار رہی لیکن ’’ اہانت مسیح‘‘ کے جرم کی پاداش بھی نہیں بلکہ مسیح علیہ السلام کی جگہ اشتراکی امپریلزم کے سربراہ نے لے لی۔ اسٹالن جورشین ایمپائر کا سربراہ بیٹھا تھا اس کی اہانت تو بڑی بات تھی اس سے اختلاف رائے رکھنابھی ممالک عروسہ روس کا سنگین جرم بن گیا۔ ایسے سر پھرے لوگوں کے یا تو سر کچل دیئے جاتے تھے جس کی مثال لینن کے ساتھ ٹرانسکی کی خونچکاں موت کی صورت میں موجود ہے۔ جو اپنی جان بچانے کے لیے روس سے بھاگ کر امریکہ میں پناہ گزیں ہوگیاتھا یا پھر ایسے مجرموں کو سائبریا کے بیگار کیمپوں میں موت کے حوالے کردیا جاتا تھا۔
برطانیہ میں ’’توہین مسیح‘‘ (Blasphamy) کا من لا ء کے تحت قابل تعزیر جرم ہے جبکہ بلاس فیمی ایکٹBalsphamy Actمیں مجرم کے لیے جسمانی موت کی بجائے شہری موت(Civil Death) کی سزا مقرر ہے۔
انگریزی زبان کی مستندقانون لعنت بلیک لاء ڈکشنری(Black`s Law Dictonary) کی رو سے بلاس فیمی ایسی تحریر یا تقریر ہے جو خدا، یسوع مسیح علیہ السلام یا انجیل یا دعائے عام کے خلاف ہو اور جس سے انسانی جذبات مجروح ہوں یا اس کے ذریعے قانون کے تحت قانون شدہ چرچ کے خلاف جذبات کو مشتعل کیا جائے اور اس سے بدکرداری کو فروغ ملے۔
انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا میں بلاس فیمی گناہ ہے اور علماء اخلاقیات بھی اس کی تائید کرتے ہیں جبکہ اسلام میں نہ صرف خدا کی شان بلکہ پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی بھی بلاس فیمی کی تعریف میں آتی ہے۔( انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا۔ ج۲۔ص۷۴)
اہل مغرب اور ان کے حواری اس امر کو بخوبی جانتے ہیں کہ مسلمانوں کو چاہے وہ عمل کے اعتبار سے کتنے کورے ہی کیوں نہ ہوں انہیں اپنے مذہب حقہ اور آقائے ختم الرسل، باعث کو ن و مکان فخر کائنات محمدمصطفی صلی اﷲ علیہ واٰلہ وسلم سے اس قدر محبت اور عقیدت ہے کہ وہ ان کی عصمت و آبرو کی حفاظت کی خاطر اپنی حقیر سی جان نچھاور کرنا اپنے لئے باعث سعادت خیال کرتے ہیں اور ایسا کیوں نہ ہو؟ کیونکہ خود خالق کائنات ارشاد فرمارہا ہے۔
’’ نبی تو اہل ایمان کے لیے ان کی جان سے بھی زیادہ مالک( اور مقدم) ہیں اور سرور کائنات علیہ التحیۃ والثناء نے اس آیت مبارکہ کی توضیح و تشریح حدیث مبارکہ میں اس طرح فرمائی۔
’’تم میں سے کوئی شخص بھی اس وقت تک مومن ہو نہیں سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والد اور اولاد اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں۔‘‘
یہ عقیدہ محبت والفت ہر زمانہ میں ایک زندہ جاوید حقیقت بن کر مسلمانوں کے اذہان و قلوب میں موجزن رہا ہے اور تاریخ کے اور اق اس پر گواہ ہیں کہ عاشقان پاک طینت رامیں زخم ہائے خونچکاں سے معمور پیکر صدق و فاصدیق اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ، خیبر شکن قوت کے سر چشمہ کے منبع اور ابن ملجم کو واصل جہنم کرنے والے حیدر کرار اور حارث بن ابی ہالہ، حضرت خبیب، حضرت زید، حضرت سعد بن ربیع، معاذ اور معوذ، حضرت سمیہ ، حضرت خنساء ، حضرت ام عمارہ رضی اﷲ عنہم و عنہن اجمعین اور برصغیر پاک و ہند میں غازی عبدالرشید شہید، غازی علم الدین شہید، غازی عبدالقیوم شہید، غازی میاں محمد شہید، غازی مرید حسن شہید، غازی معراج دین شہید، غازی امیر احمد شہید، غازی عبدﷲ پشاوری شہید، غازی محمد صدیق شہید، اور نامعلوم مجاہدین اور غازین کی ایک طویل فہرست ہے جو ان اشعار کی عمل صورت کے پیکر تھے جنہوں نے اپنی حقیر سی جانوں کا نذرانہ پیش کر کیا اور ابدی زندگی حاصل کی۔
نماز اچھی، روزہ اچھا، حج اچھا، زکوٰۃ اچھی
مگر میں باوجود اس کے مسلمان ہو نہیں سکتا
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ بطحا کی عزت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایمان ہو نہیں سکتا
اور حضور اکرم ﷺ کی زات مقدسہ پر ایمان تو نام ہی اس چیز کا ہے بقول شاعر
محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
اس سلسلہ میں یہ امربھی قابل ذکر ہے کہ اس خطہء اراضی کے اوپر جہاں جہاں مسلمانوں کی حکومت رہی ہے وہاں وہاں گستاخان رسول ؐ کو سزائے موت بطور حددینے کا قانون عام (Common Law) کے طور پر نافذ رہا۔ چنانچہ عراق، ایران، ترکی، شام، حجاز، سوڈان، مراکش، سپین، ایران،بخارا، سمرقند، افغانستان، اور انگریزوں کی آمد سے قبل جب تک ہندوستان میں فقہ اسلامی نافذ العمل رہا گستاخان رسول کی موت کی سزا جاری کرنے کے لیے قوانین …………………………………شانِ مبارک میں گستاخی کرنے کی سزا ’’سزائے موت‘ ہے بلکہ انبیا کرام اور رسولوں کے نائبین کی گستاخی کرنے کی سزا بھی واجب القتل قرار پاتی ہے۔ چنانچہ بائبل مقدس کی کتاب استثناء کے باب 17 آیت نمبر12میں ترجموں کے باربار بدلے جانے والی آیات کے کم و بیش کئے جانے کے باوجود آج بھی یہ واضح حکم موجود ہے۔ اب یہ اہل بصیرت پر موقوف ہے اور خاص طور پر اہل کتاب پر کہ اگر وہ اس کتاب پر ایمان رکھتے ہیں کہ کتاب مقدس انجیل اﷲ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہی ہے تو اس میں ذکر کردہ ’’ موت کی سزا‘‘ کی حقانیت کے بارے میں ان کے رائے کیا ہے؟ اورکیا اس آیت کا حکم ان کے آج کل کے طرز عمل کے اعلان پر ناقبل تردید ثبوت نہیں ہے؟کیا چند دنوں کے بعد نئے شائع ہونے والے اردو ایڈیشن میں اس آیت کے حکم کو حسب سابق پھر بدل تو نہیں دیں گے۔
ایک بات اور باعث تعجب ہے کہ ہر مرتبہ شائع ہونے والی کتاب مقدس’’ انجیل‘‘ میں عبارت لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟The Holy Bible Urdu Revised versionکیا نئے ایڈیشن میں اردو یا انگرزبانیں اپنا اسلوب بدل لیتی ہیں کہ دوبارہ ترجمعہ کو زبان کے جدید اسلوب میں ڈھالنا ضروری ہوجاتا ہے۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بائبل کا مستند ترجمہ 1611ء میں کیا جا چکا ہے۔
The English Translation of The Bible Completed
1161 inپھر باربار نظر ثانی کرنا ، دوبارہ غور کرنا اور ترمیم کرنے کا اختیار ’’ کتاب اﷲ‘‘ میں کس قانون کی حیثیت سے انسان کو حاصل ہوگیا ہے؟
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سچے پیروکار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس واضح حکم کا انکا ر کیوں کر سکتے ہیں؟ اگر انہیں اس کتاب مقدس کی حقانیت پر اعتقاد کامل ہے؟
’’تو اس مردیا اس عورت کو جس نے یہ برا کام کیا ہو باہر اپنے پھاٹکوں پر نکال کر لے جانا اور ان کو ایسے سنگسار کرنا کہ وہ مرجائیں ‘‘ کتاب استثناء باب ۱۷ آیت ۵
’’ شریعت کی جو بات وہ تجھ کو سکھائیں اور جیسا فیصلہ تجھ کو بتائیں اس کے مطابق کرنا اور جو کچھ فتویٰ وہ دیں اس سے دہنے یا بائیں نہ مڑنا اور اگر کوئی شخص گستاخی سے پیش آئے کہ اس کا ہن کی بات جو خداوند تیرے خدا کے خضور خدمت کے لیے کھڑا رہتا ہے یا اس قاضی کا کہنا نہ سنے تو وہ شخص مارڈالا جائے ’’باب ۱۷ آیت ۱۱۔۱۲
(یہ ترجمہ پاکستان بائبل سوسائٹی لاہور کے شائع کردہ کتاب مقدس کی ……………….کے مطابق ہے)
محترم جناب محمد اسماعیل قریشی صاحب اپنی کتاب ’’ ناموس رسالت اور قانون توہین رسالت لکھتے ہیں۔
مسیحی برادری کو تو قانون توہین رسالت کا خوش دلی سے خیر مقدم کرنا چاہیے تھا کیونکہ اس قانون کی روح سے جناب مسیح علیہ السلام اور دیگر انبیاء کرام ، جنہیں عیسائی اور مسلمان سب ہی اپنا پیغمبر حق مانتے ہیں کی شان میں گستاخی اور امانت قابل تعزیر جرم بن گیا ہے اور ان کی اہانت اور توہین کی وہی سزا مقرر ہے جو خاتمہ الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ واٰلہ وسلم کی جناب میں گستاخی کی سزا ہے۔مسلمان ان تمام پیغمبر ان کا اسی طرح احترام کرتے ہیں جیسے کہ یہودی اور عیسائی اپنے پیغمبروں کا احترام کرتے ہیں اس لئے وہ اس کے بارے میں کسی قسم کی گستاخی کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔
مسیحی برادری اور اقلیتی فرقوں کے رہنماؤں اور ان کے پیر و کاروں کی نیت پر ہمیں شبہ نہیں ۔ جب وہ ہمارے پیغمبر کی توہین اور گستاخی نہیں کریں گے تو پھر انہیں ڈر اور خوف کس بات کا ہے؟ کیا قانون بلاوجہ ان کے خلاف حرکت میں آجائے گا پھر پاکستان کی عدلیہ بے گناہ لوگوں کو جو توہین رسالت کے مجرم نہیں ، پھانسی کی سزا سنائے گی، یا کیا وہ پاکستان میں پیغمبر اسلام علیہ والسلام کے خلاف گستاخی اور تو ہین کرنے کا کھلا لائسنس طلب کر رہے ہیں؟
ان میں جب کوئی بات بھی قرین قیاس نہیں تو پھر اس منسوخی کے مطالبہ کا آخر……………؟

      بشکریہ
برادرم محمد ضیاء الحق نقشبندی
مدون نشانِ راہ

Show Buttons
Hide Buttons