خطیب بغدادی کا تعارف:

علامہ خطیب بغدادی
(392ھ- 463ھ)
نام و نسب و القابات:
نام احمد بن علی اورکنیت ابوبکر ہے اور عموماً الخَطِیب البَغدادِی کے نام سے جانے جاتے ہیں‘ جبکہ محدثین کرام نے اِنہیں حافظ المشرق اورخطیب البغدادی کے نام سے بھی پکاراہے۔ امام ابن الاثیر الجزری (م630ھ/1233)نے خطیب بغدادی کو اِمام الدُّنیا فِی زَمَانہ کے لقب سے یاد کیا ہے جبکہ مؤرخ الاسلام الامام الذہبی (م748ھ/1373ء)نے خطیب بغدادی کو اِن القابات سے یاد فرمایا ہے: الامام الاَوحد‘ العَلَّامۃ المُفتِی‘ الحَافظ النَّاقد‘ مُحَدِّث الوَقت ۔
ابن خلکان (متوفی681ھ/1282ء)نے نسب یوں بیان کیا ہے: ابوبکر احمد بن علی بن ثابت بن احمد بن مہدی بن ثابت البغدادی ۔ الصفدی (م764ھ/1363ء)نے نسب یوں بیان کیا ہے: ابوبکر احمد بن علی بن ثابت بن احمد بن مہدی۔ ابن جوزی (متوفی597ھ/1201)نے بھی یہی نسب المنتظم فی تاریخ الملوک والامم میں بیان کیا ہے۔
ولادت و مقام ولادت:
خطیب بغدادی کی ولادت بمقام درزیجان میں بروز جمعرات 21جمادی الثانی392ھ (7مئی 1002ء)کو ہوئی ‘ درزیجان بغداد کے مغرب میں واقع دریائے دجلہ کے کنارے ایک قریہ ہے۔ یاقوت الحموی (م626ھ/1228ء)نے معجم البلدان میں لکھا ہے کہ درزیجان اصلاً درزیندان ہے جو عربی میں دَرْزَِیْجَان مستعمل ہواہے ‘ اوریہ بغداد کے مغربی جانب دریائے دجلہ کے کنار ے آباد بغداد کے تحت بڑے دیہاتوں میں سے ایک تھا اور یہاں خطیب بغدادی کے والد علی بن ثابت خطیب تھے۔ خطیب بغدادی کی ولادت خلیف�ۂ عباسی القاد ر باللہ کے عہدِ خلافت میں ہوئی‘ القاد ر باللہ کی بیعت ہفتہ 19شعبان المعظم 381ھ (یکم نومبر991ء)کو کی گئی تھی‘ اِس لحاظ سے خطیب بغدادی کی ولادت خلیفہ القادر باللہ العباسی کے بیعتِ خلافت کے10 سال 10ماہ گزرنے پر بغدادمیں ہوئی۔ صاحب نجوم الزاہرہ نے سن ولادت391ھ لکھا ہے مگر مؤرخین کا اِس پر اتفاق ہے کہ ولادت 392ھ میں ہوئی۔بغداد میں ہی نشوونما پائی اور عمر کا ایک طویل عرصہ بغداد میں ہی بسر ہوا۔
تحصیل علم و حدیث:
خطیب بغدادی کے والد ابو الحسن الخطیب علی بن ثابت قری�ۂ درزیجان میں خطیب تھے ۔سمعانی کہتے ہیں کہ خطیب کے والد ابوالحسن علی بن ثابت قری�ۂ درزیجان میں بیس سال سے زائد خطیب کے عہدہ پر فائز رہے۔ والد کے طریق پر عمل کرتے ہوئے خطیب نے تحصیل علم شروع کی اُس وقت خطیب کی عمر فقط گیارہ سال تھی۔ قرأت کا درس ھلال بن عبداللّٰہ بن محمد الطَیِّبِی ‘ ابو عبداللّٰہ الطِّیبی ‘ مؤدِّبی سے حاصل کیا۔ مؤدِّبی کی وفات 422ھ(1031ء)میں بغداد میں ہوئی۔خطیب کے حدیث کے سماع کی ابتداء محرم الحرام403ھ(جولائی/اگست1012ء)سے ہوئی اُ س وقت عمر 10سال7ماہ تھی۔اولاً کتابت و املاء حدیث کا درس محمد بن احمد بن محمد بن احمد بن رِزق المعروف ابن رَزقویہ (325ھ 412-ھ) سے حاصل کیا۔خطیب نے ابن رَزقویہ سے حدیث کا سماع406ھ میں شروع کیا جو ابن رَزقویہ کی وفات تک یعنی412ھ تک جاری رہا ‘ غالباً قیاس کیا جاسکتا ہے کہ یہ 6 سال خطیب کی تعلیم میں ابتدائی زینے ثابت ہوئے اور یہ بات حیران کن بھی ہے کہ یہ تمام سال ابن رَزقویہ کی حیات کے اواخر پیرانہ سالی کے سال ہیں یعنی406ھ تا 412ھ (81 تا87سال تک)۔
412ھ خطیب کے لیے سال غم ثابت ہوا ‘ سوموار16جمادی الاول412ھ (28اگست1021ء) کو ابن رَزقویہ 87سال کی عمر میں اِنتقال کرگئے‘ ابن رَزقویہ کی وفات خطیب کے لیے غمگین ثابت ہوئی کیونکہ خطیب ابھی علم حدیث کے ابتدائی زینوں پر چڑھے ہی تھے کہ شفیق اُستاد کا سایہ اُٹھ گیا‘ ابن رَزقویہ کے متعلق خود خطیب کے قول کو ابن کثیر نے البدایۃ والنہایۃ میں نقل کیا ہے کہ:

’’آپ پہلے شیخ ہیں جن کی طرف سے میں نے403ھ میں لکھا اور آپ بیان کرتے تھے کہ آپ نے قرآن کا درس دیا اور شافعی مذہب کے مطابق فقہ کا درس دیا‘ اور آپ ثقہ ‘ مدون‘ بہت سماع اور تلاوت کرنے والے ‘ اچھے اعتقاد والے‘ اچھے مذہب والے‘ ہمیشہ تلاوتِ قرآن کرنے والے اور اہل بدعت پر بہت سختی کرنے والے تھے۔اور کچھ عرصہ آپ پورے انہماک کے ساتھ حدیث میں مشغول رہے اور آپ فرمایا کرتے تھے ’’میں دنیا کو صرف ذکر الٰہی ‘ تلاوتِ قرآن اور تمہیں حدیث سنانے کی وجہ سے پسند کرتا ہوں‘‘ ۔
ابن رَزقویہ کی وفات کے پانچ ماہ بعد خطیب کے والد ابو الحسن علی بن ثابت کی وفات بمقام درزیجان اتوار 15شوال المکرم412ھ (21جنوری1022ء) کو ہوئی اُس وقت خطیب بغدادی کی عمر20سال 3ماہ24یوم تھی۔
نحوِ حدیث:
419ھ (1028ء)میں نحوِ حدیث کی تعلیم محدث ابوبکر احمد بن محمد ابن غالب الخوارزمی البرقانی(336ھ تا425ھ)سے حاصل کی ۔419ھ سے425ھ (1028ء تا1034ء) تک قریباً 6 سال نحوِ حدیث کی تعلیم البرقانی سے حاصل کی۔
تحصیل علم کے واسطے سفر:
20سال کی عمر میں خطیب نے پہلا تعلیمی سفرجمادی الاول 412ھ (اگست/ستمبر1021ء)میں بصرہ اور کوفہ کی جانب کیا۔اگلے تین سال مزید سفر میں گزرے۔رمضان المبارک415ھ (نومبر1024ء)میں نیشاپورپہنچے۔ 421ھ (1030ء)تک نیشاپور میں قیام پذیر رہے۔ نیشاپور کے اِس سفر میں خطیب دِ ینور اور رَے کے شہروں میں بھی گئے۔415ھ (1024ء)میں رَے شہرپہنچے۔نیشاپور سے واپسی ماہِ رجب 415ھ(ستمبر1024ء)میں ہوئی۔415ھ (1024ء)سے 419ھ(1028ء)تک بغداد میں مقیم رہے۔مشرق میں خطیب کے دوسرے اسفارِ تعلیمی کا دَور 421ھ(1030ء)سے شروع ہوتا ہے جب خطیب ماہِ ذیقعد 421ھ(نومبر1030ء)کو اصفہان پہنچے اور یہاں ماہِ ربیع الاول 422ھ (مارچ1031ء) تک یعنی کل چار ماہ مقیم رہے۔اصفہان کا سفر خطیب کا آخری تعلیمی سفر ثابت ہوااِس کے بعد وہ بغداد میں مقیم ہوگئے۔423ھ(1032ء)سے440ھ(1038ء/1039ء)تک خطیب بغداد میں مقیم رہے۔
بغداد آمد اور ایک خط کی تصدیق کا معاملہ:
423ھ (1032ء)میں دوبارہ بغداد واپسی پر عباسی وزیر ابن المسلمہ سے ملاقات ہوئی اور خطیب نے اِن کے یہاں مرتبہ حاصل کرلیا۔423ھ (1032ء)میں ایک خط کی تصدیق کا معاملہ پیش آیا۔خیبر کے یہودیوں نے دعویٰ کیا کہ اُن کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط موجود ہے‘جس میں اُن سے جزیہ ساقط کرنے کا بیان ہے ۔تو ابن المسلمہ نے خطیب کو اِس خط سے آگاہ کیا تو آپ نے فرمایا ‘ یہ جھوٹ ہے‘ ابن المسلمہ نے آپ سے پوچھا : اِس کے جھوٹا ہونے کی کیا دلیل ہے؟آپ نے فرمایا اِس لیے کہ اِس میں حضرت معاویہؓ کی شہادت ہے‘ اور وہ غزوۂ خیبر میں مسلمان نہیں ہوئے تھے اور خیبر سنہ 7 ھ(628ء) میں فتح ہوا تھااور حضرت معاویہؓ فتح مکہ کے روز مسلمان ہوئے تھے اور اِس میں حضرت سعد بن معاذؓ کی شہادت ہے‘ اور وہ غزوۂ خیبر سے قبل خندق کے سال 5ھ میں فوت ہوگئے تھے تو لوگ خطیب کی اِس بات پر حیران رہ گئے۔
سفر دمشق:
خطیب نے دمشق کا سفر دو مرتبہ اِختیار کیا۔پہلی بار 440ھ(1049ء/1050ء)میں اور دوسری بار ماہِ رمضان 445ھ (دسمبر1053ء)میں جب خطیب سفر حج کے لیے روانہ ہوئے ‘ اور ادائیگی حج کے بعداِسی سفر سے دمشق روانہ ہوگئے۔حالانکہ اِن دونوں اسفار کے درمیانی عرصہ میں خطیب بغداد میں مقیم رہے ‘ اِس کا ثبوت خود تاریخ بغداد میں موجود ہے کیونکہ ابوطاہر ابراہیم بن محمد بن عمر بن یحییٰ بن الحسین بن احمد العلوی کی وفات کا احوال خطیب نے خود لکھا ہے جوبدھ 13صفر446ھ(25مئی1054ء) کو ہوئی۔
445ھ میں سماع حدیث:
445ھ (1053ء/1054ء)میں خطیب سفر حج کے لیے بغداد سے مکہ مکرمہ کے لیے روانہ ہوئے اورسوموار 8ذوالحجہ445ھ (21مارچ1054ء)میں مکہ المکرمہ جاپہنچے ‘ یہاں ابو عبداللہ محمد بن سلامۃ بن جعفر القضاعی المصری ‘ ابو القاسم بن بندار بن علی الشیرازی‘ محمد بن احمد بن عبداللہ الاَ ردَستانی کے سامنے حدیث کا سماع کیا اور کریمہ بنت احمد المروزیہ (م463ھ/1071ء) کو پانچ روز میں صحیح بخاری سنائی۔

دمشق کا دوسرا سفر اور صور شہر میں اقامت:
450ھ(1058ء)میں جب بغداد میں ابوالحارث البساسیری کا فتنہ ہوا جس میں عباسی وزیر ابن المسلمہ قتل کردیا گیا توماہِ صفر 451ھ(مارچ/اپریل1059ء) کو خطیب بغداد سے شام کے سفر کو روانہ ہوئے۔ماہِ ذوالحجہ451ھ(جنوری1060ء)کو خطیب دمشق پہنچ گئے جہاں وہ دمشق کی جامع مسجد کی شرقی اذان گاہ میں قیام پذیر ہوئے ۔صفر459ھ(دسمبر1066ء/جنوری1067ء)میں دمشق سے شہر صور چلے گئے (صور شہر اب موجودہ لبنان میں واقع ہے) ‘ دمشق سے صور شہر جانے کا واقعہ یہ ہوا کہ جامع دمشق میں ہی ایک روز آپ نے حضرت عباسؓ کے فضائل بیان کرنا شروع کیے تو روافض نے آپ پر حملہ کردیا جو فاطمیوں کے پیروکار تھے‘کیونکہ اُن دِنوں شام پر فاطمی حکمرانوں کی حکومت قائم تھی۔رافضیوں نے آپ کو قتل کردینا چاہا مگر الشریف الزینبی سے سفارش کی گئی تو اُس نے آپ کو پناہ دی ‘ اِس عرصہ میں خطیب ؒ کا قیام دارالعقیقی میں رہا ۔دمشق میں آپ لوگوں کو حدیث سنایا کرتے تھے ۔خطیب بلند آواز تھے یہاں تک کہ آپ کی آواز جامع دمشق کے سب اطراف میں سنی جاتی تھی۔دمشق سے آپ صور شہر کو روانہ ہوگئے اور وہاں اقامت اختیار کیا۔خطیب اِس سے قبل بھی 446ھ(1054ء/1055ء) میں حج کے بعد صور شہر گئے تھے۔صور شہر میں آپ کا قیام چار سال یعنی459ھ(1067ء) سے 462ھ (1069ء/1070ء) تک رہا۔462ھ(1069ء/1070ء)میں صور شہر چھوڑنے کے بعد حلب اور طرابلس بھی گئے اور اِسی سال بیت المقدس کی زیارت بھی کی۔462ھ(1069ء/1070ء)تک خطیبؒ شام کے مضافات میں ہی مقیم رہے۔
خطیب بغدادی کی دوبارہ بغداد آمد:
جب سلجوقیوں نے بغداد کا امن بحال کردیا تو ماہِ ذوالحجہ 462ھ(ستمبر1070ء ) میں خطیب بغداد واپس آئے اور درب السلسلۃ میں مدرسہ نظامیہ کے پڑوس میں اقامت اِختیار کی۔ قریباً 9 ماہ (ذیقعد 462ھ تارمضان463ھ/اگست ستمبر1070ء تا جون1071ء)تک آپ مدرسہ نظامیہ سے وابستہ رہے۔بغداد میں آپ نے دعا کی کہ آپ ایک ہزار دِ ینار کے مالک ہوں‘ اور جامع منصور میں تاریخ بیان کریں ‘ پس آپ ایک ہزار دِ ینار یا اُس کے قریب سونے کے مالک ہوئے اور جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ کے پاس تقریباً دو سو دِ ینار موجود تھے۔اور آپ نے اہل حدیث افراد کے لیے اِن دِ یناروں کی وصیت کردی‘ اور آپ نے سلطان سے اِس کے نافذ کرنے کی اپیل کی کیونکہ آپ کا کوئی وارث نہ تھا‘ توآپ کی یہ بات قبول کرلی گئی۔
وفات:
ماہِ رمضان المبارک463ھ(جون1071ء)میں خطیب علیل ہوئے ‘ اور قریباً تین ماہ سے زائد کے عرص�ۂ علالت کے بعد سوموار 7 ذوالحجہ463ھ(5 ستمبر1071ء)کو چار ساعت بعد طلوع آفتاب‘ (ابن خیرون نے وقتِ وفات چاشت کا بیان کیا ہے) اِس حافظ المشرق نے بغداد میں اپنے حجرہ میں جو مدرسہ نظامیہ کے عقب میں موجود تھا‘ 71 سال 5 ماہ16یوم کی عمر میں اِنتقال کیا۔اوراِسی سال حافظ المغرب علامہ ابن عبدالبر کی وفات ہوئی۔سوموار8ذوالحجہ463ھ(6ستمبر1071ء) کونمازِ جنازہ ابوالحسن ابن المہتدی باللہ نے پڑھائی۔شیخ ابو اسحاق شیرازی کے جنازہ کو کندھا دیا۔جنازے میں کثرت اژدھام کی موجودگی میں بابِ حرب میں واقع مقبرۂ حضرت بشر الحافی رحمۃ اللہ علیہ کے قریب دفن کیا گیا۔
حنابلہ اور خطیب بغدادی:
خطیب اولاً امام احمد بن حنبل ؒ (م 241ھ/855ء)کے مذہب پر گفتگو کیا کرتے تھے ‘ بعد اَزاں امام شافعی ؒ (م204ھ/820ء) کے مذہب کی طرف منتقل ہوگئے ‘ اِسی لیے خطیب کا شمار کبار شافعیہ میں کیا جاتا ہے۔علوم حدیث میں متبحرانہ دسترس رکھنے کی وجہ سے خطیب کو بغداد میں کافی شہرت حاصل ہوئی۔خطیب کے تذکرہ نویسوں میں سے ایک کا ذکر ہے کہ واعظین اور مبلغین حدیث یہ ضروری سمجھتے تھے کہ اپنی جمع کی ہوئی احادیث کو اپنے واعظوں اور تقریروں میں روایت کرنے سے قبل اُن کی صحت کے متعلق اُن کی متخصصانہ رائے معلوم کرلیں لیکن اِس کے برعکس یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حنابلہ کی مخالفانہ روش سے ‘ جن کا اُس زمانے میں بغداد میں بہت غلبہ و ہجوم تھا‘ خطیب کو تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔شروع میں حنبلی المذہب رہنے کے بعد اُن کا شافعی مذہب کو ترجیح دینا ‘ مزید اُن کے فقیہانہ نظریات جن پر اشعریت کا اثر غالب تھا ‘ اِن سب عوامل نے امام احمد بن حنبل ؒ کے شاگردوں کو جو اُمورِ فقہ میں قیاس کے سخت مخالف تھے‘ خطیب سے متنفر کردیا۔لیکن حنابلہ کی سخت مخالفت کے باعث خلیفہ عباسی القائم باللہ اور وزیر ابن المسلمہ کی تائید و حمایت سے وہ جامع منصور میں حدیث سے متعلق سلسل�ۂ درس کو قائم رکھنے میں کامیاب ہوئے۔حنابلہ کی مخالفت کی تلخی خطیب کے دِ ل میں جاگزیں ہوگئی تھی جس کا اِظہار اِن باتوں سے ہوتا ہے کہ

خطیب اپنی تحاریر ‘ تقاریر میں امام احمد بن حنبل ؒ اور اُن کے شاگردوں پر اشارۂ تنقید کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دِ یا کرتے تھے‘ اِسی وجہ سے بعد کی نسلوں نے خطیب پر فقہی تعصب اور مذہبی جنبہ داری کا اِلزام عائد کیا ہے جسے حاجی خلیفہ نے بیان کیا ہے۔خطیب عقائد میں مذہب ابوالحسن اشعری ؒ (م324ھ/936ء ) کے پیرو تھے جو بقول امام تاج الدین السبکی (م756ھ/1355ء) ‘ محدثین کا مذہب قدیماً و حدیثاً رہا ہے۔
تصانیف و مناقب:
خطیب کی تصانیف کی کل تعداد 56 ہے۔ابن خلکان نے 60کہا ہے مگر 56کی تعداد کو امام الذہبی نے خود تذکرۃ الحفاظ میں بیان کیا ہے اور اِسی تعداد کو ابو سعد سمعانی نے بھی بیان کیا ہے۔صور شہر میں اقامت (459ھ تا462ھ)کے دوران خطیب نے ابوعبداللہ الصوری کی تصانیف کو نقل کیا ‘ آپ اُنہیں ابو عبداللہ الصوری کی زوجہ سے عاریتاً لے لیاکرتے تھے۔ابن جوز ی (م 597ھ/1201ء)کہتے ہیں کہ اِن تصانیف کا ایک بڑا حصہ ابو عبداللہ الصوری کا ہے ‘ یا اِن کی ابتداء اس کی ہے اور خطیب نے اِن تصانیف کو مکمل کیا ہے یا اِنہیں اپنی ہی تصانیف کا حصہ بنالیا ہے‘ لیکن تاریخ بغداد کا اَسلوب جو سب تصانیف سے جداگانہ حیثیت رکھتا ہے ‘ وہ خود خطیب کا شاہکار ہے۔ابن کثیر نے تاریخ ابن کثیر اور ابن جوزی نے المنتتظم میں خطیب کی اِن تصانیف کا ذکر کیا ہے: کتاب التاریخ یعنی کتاب التاریخ المَدِیْنَۃ السَّلَام‘ کتاب الکفایۃ فی معرفۃ اصول علم الروایۃ ‘ کتاب الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع‘ شرف الصحاب الحدیث‘ کتاب المتفق و المفترق‘ السابق اللاحق‘ تلخیص المتشابہ فی الرسم تلخیص کتاب السابق اللاحق‘ فضل الوصل‘ روایۃ الآباء عن الانباء‘ الفقیہہ والمتفقۃ ‘ المکمل فی بیان المُھمل‘ کتاب غنیۃ المقتبس فی تمییز الملتبس‘ کتاب الاسماء المبھمۃ والانباء المحکمۃ‘ کتاب الموضع اوھام الجمع والتفریق‘ کتاب المؤتنف بکملۃ المُختلف والمؤتلف‘ کتاب لھج الصواب فی ان التسمیۃ من فاتحۃ الکتاب‘ کتاب الجھر بِالبسلمۃ‘ کتاب رافع الارتیاب فی المقلوب من الاسماء والاَلقاب‘ کتاب القنوت‘ کتاب التبیین لاسماء المُدلسین‘ کتاب تمییز المزید فی متصل الاَسانِید‘ کتاب مَنْ وافق کنیۃ اسم ابیہ‘ کتاب مَنْ حدَّث فنسی‘ کتاب روایۃ الآباءِ عن الابناء‘ کتاب الرحلۃ‘ کتاب الرواۃ عن مالک‘ کتاب الاحتجاج عن الشَّافعی فیما اسند الیہ والرَّد علی الطاعنین بجھایم علیہ ‘ کتاب التفصیل لمبھم المَراسیل‘ کتاب اقتفاء العلم بِالعمل‘ کتاب تقیید العلم‘ کتاب القول فی علم النجوم‘ کتاب روایات الصحابۃ عن التَابَعین‘ کتاب صلاۃ التَسبیح‘ کتاب مُسند نعیم بن حَمَّاد‘ کتاب النَھی عن صوم یوم الشَّک‘ کتاب الاِجازۃ للمَعدوم والمَجھول‘ کتاب روایات السُّنۃ من التَابَعین‘ کتاب البُخَلاءِ ۔
وفات سے قبل اپنی تمام کتابیں احمد بن الحسن بن خیرون بغدادی المعروف ابن خیرون(م488ھ/1095ء)کے حوالے کردیں اور مال و دولت خلیفہ کی اجازت لے کر تقسیم کردی چونکہ کوئی وارث نہ تھا‘ لہٰذا متروکہ مال حق بیت المال ہوتا‘ یوں اجازت خلیفہ سے ضروری تھی۔خطیب اچھے قاری‘ فصیح الالفاظ اور ماہر ادب تھے اور شعر بھی کہا کرتے تھے ۔چلتے چلتے کتاب کا مطالعہ کرتے جاتے ۔دولت و ثروت مند تھے‘ اہل علم اور علم کی خدمت میں بڑی بڑی رقوم خرچ کیں۔ سفر حج میں شام تک قریب غروب ایک قرآن ترتیل کے ساتھ ختم کرلیا کرتے تھے ‘ اِس کے بعد لوگ جمع ہوکر روایتِ حدیث کی التجاء کیا کرتے ۔خطیب سواری میں بیٹھ کر روایتِ حدیث کرتے کیونکہ عرب میں سفر شب کو ہی ہوتا ہے۔ایک بار کسی نے آپ کو دیکھ کر کہا ’’تم حافظ ابوبکر خطیب ہو؟‘‘ تو کسر نفسی میں فرمایا ’’میں ابوبکر خطیب ہوں‘‘۔ حاضر�ئ حرم کے وقت زمزم نوش فرمانے کے بعد تین دعائیں کیں: بغداد میں اپنی تاریخ کی روایت کریں‘ جامع منصور میں روایتِ حدیث کریں اور حضرت بشر الحافی رحمۃ اللہ علیہ کے پہلو میں دفن ہوں۔اور یہ تینوں دعائیں قبول ہوئیں ۔محدثین کا اِس پر اتفاق ہے کہ امام دارقطنی کے بعد علوم حدیث کا ماہر اِن سے بڑھ کر نہیں ہوا‘ حفاظ کا اِن پر خاتمہ ہوگیا۔ ابن جوزی (م597ھ/1201ء)نے بھی خطیب کی شان میں ایک بہترین قصیدہ بیان کیا ہے جسے ابن کثیر الدمشقی نے اپنی تاریخ میں بیان کردیا ہے جبکہ ابن عساکر(م571ھ/1175ء)نے بھی حسبِ عادت خطیب کے بہت اچھے حالات قلمبند کرنے کے بعد اشعار درج کیے ہیں۔
علامہ ابن کثیر الدمشقی(م773ھ/1373ء)نے خطیب کے لیے اپنی تاریخ میں یہ شعر نقل کیا ہے کہ:
’’تو ہمیشہ ہی تاریخ میں مجاہدانہ طور پر مشقت اُٹھاتا رہا ہے‘ حتیٰ کہ میں نے تجھے تاریخ میں لکھا ہوا دیکھا‘‘۔

Show Buttons
Hide Buttons