یزید اور علامہ آلوسی صاحب تفسیر روح المعانی :مفتی گلزار احمد نعیمی

تحریر: مفتی گلزار احمد نعیمی

 اس سے قبل کہ ہم علامہ سید محمود آلوسیؒ(1217-1270ھ) کے یزید کے بارے میں نظریات پر گفتگو کریں، پہلے ہم اس مفسر شھیر کے بارے میں مختصر معلومات اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کریں گے تا کہ علامہ آلوسی ؒ کی شخصیت اور آپکا تبحر علمی قارئین تک پہنچ جائے اور اس کے بعد آپکی شہرئہ آفاق تفسیر” روح المعانی“ کی روشنی میں آپکے یزید کے بارے میں نظریات پر بحث کریں۔

          علامہ سید محمود آلوسی ؒ امت کے نہایت عظیم ،معتبر ترین مفسر اور فقیہ کی حیثیت سے مشہور ہیں۔ آپ 1217ھ میں آلوس (جو بغداد اور شام کے قدیم راستے پر واقع ایک گاﺅں ہے) میں پیدا ہوئے ۔ آپ تفسیر ، حدیث ، فقہ، صرف و نحو اور علم ہیت پر یکساں ملکہ اور دسترس رکھتے تھے ۔ علم لغت ، منطق ، فلسفہ اور علم کلام میں بھی آپکو ید طولیٰ حاصل تھا ۔ علامہ آلوسی کو قدرت نے ایسا حافظہ دیا تھا کہ اس پر وہ خودبھی فخر کرتے تھے۔ تیرہ برس تک منقولات و معقولات سے فراغت کے بعد تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا ۔ بنیادی طور پر فقہ شافعی کی طرف میلان تھا مگر فقہ حنفی بھی آپ کے لیے قابل قبول تھی۔ عراق میں فقہ حنفی کے منصب افتاءپر بھی فائز رہے۔ آپ نے تفسیری کام کا آغاز 1252ھ میں کیا اور اسکا اختتام ۴ ربیع الاول 1267ھ میں کیا ۔ وزیر اعظم رضا پاشا کے سامنے نام کے حوالے سے بات کی تو انہوں نے اس تفسیر کا نام ”روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم وسبع مثانی“رکھ دیا ۔ اس کے علاوہ آپکی متعدد تصنیفات ہیں جیسے شرح المسلم فی منطق، الفوائد السنیہ فی آداب البحث ، الا جوبہ العراقیہ، النفحات القدسیہ وغیرہ قابل ذکر ہیں لیکن آپکی اصل وجہ شہرت آپکی تفسیر روح المعانی ہے۔ اس میں علامہ آلوسی ؒ نے ہر قسم کی بحث کی ہے۔ اس طرح ایک نحوی ، صرفی ، منطقی العرض ہر فن کا طالب علم اس سے استفادہ کر سکتا ہے۔ کہیں کہیں قرآن کے الفاظ کو جب روحانی جامہ پہناتے ہیں تو علامہ کے علمی تفوق کو انسان داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ عقائد باطلہ کی بھی خوب خبر لی ہے۔ بڑے بڑے مفسرین رازی، کشا ف، بیضاوی پر نقد بھی کیا ہے مگر نہایت احترام کے ساتھ۔یہ تفسیراپنی افادیت کے اعتبار سے علامہ آلوسی کا ایک گراں قدر علمی تحفہ ہے جو انہوں نے امت کے لیے چھوڑا ہے۔عالم اسلام کا یہ جلیل القدر عالم 25 ذوالقعدہ 1270ھ کو دار فانی سے رخصت ہوا اور آپکو بغداد میں محلہ”کرخ“کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ گذشتہ ماہ راقم عازم عراق ہوا جہاں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ اور امام اعظم ابو حنیفہ ؒ کے مزارات پر حاضری دی تاہم علامہ آلوسی کی قبر پر نہ جا سکے ۔آج کا بغداد بہت بدل چکا ہے اور ایسے روحانی مسکن ڈھونڈنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے جبکہ ہمارے پاس بہت مختصر وقت تھا۔

          اس اجمالی سے تعار ف کے بعد ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ وہ یہ کہ علامہ آلوسی ؒ نے یزید کے بارے میں تفسیر روح المعانی میں کن نظریات کا اظہار کیا ہے۔ یزید اسلام کی عظیم الشان تاریخ کے چہرے پر ایک نہایت بد نما اور قابل نفرت داغ ہے جس کو مٹایا نہیں جا سکتا۔ اسکی متعفن حکومت کی بد بو کئی صدیا ں گزر جانے کے باوجود کم نہیں ہوئی بلکہ پہلے سے زیادہ ہی اسلامی جانفزا آب و ہوا کو متاثر کر رہی ہے۔ آج پوری دنیا اسلام میں تشدد ، انتہاءپسندی اور کشت و خون کی لہر دوڑتی نظر آتی ہے تو اس کے ڈانڈے اسی یزید ی سوچ کے ساتھ جا ملتے ہیں جو اس نے اکسٹھ ہجری میں روا رکھی۔ اس نے اپنی حکومت منوانے کے لیے خانوادئہ نبوت کے خوبصورت روشن چراغ گل کیے اور مخدرات نبوت کی حتک حرمت کی۔ یہ تشدد اور انتہاءپسندی بنو امیہ کا تحفہ ہے جو انہوں نے امت کو دیا ہے۔ خاص طور پر عترت رسول اور فرزندان رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قتال اور انکی بے حرمتی ایک مسلمان کو کہاں زیب دیتی ہے کیسے ممکن ہے کہ ایک مسلمان یزید اور اسکے حواریوں کو اسلام اور اہل اسلام کا نمائندہ اور راہنما خیال کرے۔

 علامہ آلوسی ؒ سورة محمد کی آیت نمبر ۲۲ کی تفسیر کے ذیل میں حضرت عمر فاروقؓ کے قول (امِّ حُر کی بیع جائز نہیں ) کے بعد لعن یزید پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں ”نقل البرز نجی فی الا شاعة والھیثمی فی الصواعق ان الا مام احمد لما سالہ ولدہ عبداللہ عن لعن یزید قال:کیف لا یلعن من لعنہ اللہ تعالیٰ فی کتابہ ۔ قال عبد اللہ قد قرات کتاب اللہ عزوجل فلم اجد فیہ لعن یزید فقال الا مام ان اللہ تعالی یقول:فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدو ا فی الارض وتقطعوا ارحامکم اولئک الذین لعنھم اللہ۔ الا یة وای فساد وقطیعة اشد مما فعلہ یزید؟۔“

ترجمہ:البرز نجی نے الاشاعة میںالھیثمی نے الصواعق میں کہا ہے کہ امام احمد بن حنبلؒ سے جب انکے فرزند عبدا للہ نے لعن یزید کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا :اس پر لعنت کیونکر نہ کی جائے جس پر اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں لعنت بھیجتا ہے۔ عبداللہ نے کہا !میں نے کتاب اللہ عزوجل کو پڑھا ہے مگر لعن یزید (یزید پر لعنت بھیجنا)تو مجھے کہیں نہیں ملی ۔ تو امام نے فرمایا ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے”اور تم سے یہ کوئی بعید نہیں کہ جب تمہیں اقتدار مل جائے تو تم زمین میں فساد بپا کرو اور قطع رحمی کرو، یہی وہ لو گ ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہے“تو کونسا فساد اور قطع رحمی یزید کے عمل سے بڑھ کر ہوگی؟“۱

 آگے چل کے علامہ آلوسی لکھتے ہیں ”وذھب شیخ الاسلام السراج البلقینی الی جواز لعن العاصی المعین لحدیث الصحیحین، اذا دعا الرجل امراتہ الی فراشہ فابت ان تجئی فبات غضبان لعنتھا الملائکة حتی تصبح“

ترجمہ: اور شیخ الاسلام السراج البلقینی نے حدیث صحیحین کی وجہ سے معین فاسق پر لعنت کرنے کے جواز کا قول کیا ہے کہ ”جب کوئی خاوند اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ انکار کردے وہ (خاوند) غصے میں رات گزارے تو طلوع صبح تک فرشتے اس (عورت) پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں “۔۲

اس حدیث کوامام بخاری اور امام مسلم کے علاوہ دیگر محدثین نے بھی اپنی کتب میں ذکر کیا ہے۔ اسی طرح علامہ آلوسی ؒ نے الزواجر کا حوالہ بھی پیش کیا ہے جو حضرت علامہ ابن حجر مکی ؒ کی نہایت عظیم الشان تصنیف ہے۔ خوف طوالت کی وجہ سے ہم صرف عبارت کے ترجمہ پر اکتفاءکریں گے”زواجر میں ہے کہ اگر اس (لعن یزیدکے)حوالے سے مسلم کی حدیث سے استدلال کیا جائے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک گدھے کے پاس سے گزرے جس کے چہرے کو گرم لو ہے سے داغا گیا تھا تو فرمایا : جس نے اسے داغا اس پر اللہ کی لعنت “۔ اس قول کی بنیاد پر یزید پر لعنت کرنے میں زیادہ توقف نہیں کیا جائے گا کیونکہ وہ بہت زیادہ اوصاف خبیثہ کا مالک تھا اور اپنی حکومت میں وہ بکثرت کبائر کا مرتکب ہوا ۔ اس کے لیے یہی کافی ہے کہ اس نے اہل مدینہ اور اہل مکہ پر چڑھائی کی جبکہ طبرانی نے سند حسن کے ساتھ حدیث روایت کی ہے”اے اللہ جو اہل مدینہ پر ظلم کرے اور انکو ڈرائے تو اس پر اللہ ،فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو، اسکا کوئی فرض یا نفل قبول نہ ہو۔“۳

 علامہ آلوسی فرماتے ہیں

وقد جزم بکفرہ وصرح بلعنہ جماعة من العلماءمنھم الحافظ ناصر السنة ابن جوزی وسبقہ القاضی ابو یعلی وقال العلامة التفتازانی: لا نتوقف فی شانہ بل فی ایمانہ لعنة اللہ علیہ وعلیٰ انصارہ واعوانہ۔۔

ترجمہ: اور یزید کے کفر اور اس پر لعنت کرنے کی علماءکی ایک جماعت نے تصریح کی ہے ان میں ناصر السنہ علامہ ابن جوزی اور قبل ازیں قاضی ابو یعلی ہیں اور علامہ تفتازانی نے تو کہا ہے کہ ہم یزید کے معاملے میں توقف نہیں کریں گے(کہ وہ مومن ہے کہ نہیں) اس پر ، اس کے انصار و معاونین پر اللہ کی لعنت ہو۔۴

 حضرت علامہ آلوسی نے مزید لکھا ہے کہ جب شہادت امام حسین ؓ کے بعدمخد رات اہلبیت کو قیدی بنا کرشام لے جایا گیا تو یزید نے اپنے ”فاتحین“ کا جیرون کی وادی میں استقبال کیا اور وہاں پر جو اس نے اشعار کہے وہ پتہ دیتے ہیںکہ اس کی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کتنی دشمنی تھی۔ جب اس نے نیزوں پر سروں کو دیکھا تو اس نے بکواس کیا۔

لما بدات تلک الحمول و اشرفت

تلک الروس علی شفا جیرون

نعب الغراب فقلت قل او لا تقل

فقدا قضیت من الرسول دیونی ۵

ترجمہ: جب یہ لدے ہوئے اونٹوں کا قافلہ ظاہر ہوا

اور جیروں کے کنارے سے ان کے سر بلند ہوئے

کوّا بولنا شروع ہوا میںنے کہا تو بول یا نہ بول

میں نے تو رسول سے پرانے قرضے چکا لیے ہیں

یہ کون سے قرضے ہیں؟ اس پلید نے یوم بدر کے قرضوں کی طرف اشارہ کیا جس میں اسکا نانا عتبہ اور اسکا ماموں ولید بن عتبہ جہنم واصل ہوئے تھے۔ علامہ آلوسی نے مزید لکھا ہے کہ میرا ظن غالب ہے کہ وہ خبیث دائرہ اسلام سے خارج تھا۔ وہ نبی کی رسالت کا مصدق نہیں تھا ۔ حرم کعبہ اور حرم رسول کے ساتھ جو اس نے کیا ، عترت رسول کے ساتھ اسکا جوسلوک رہا ہے اس سے اسکا ذرا سا بھی ایمان ظاہر نہیں ہوتا ۔ اس نے قرآن کو گندگی میں ڈالا ۔ اکابر مسلمانوں کے سامنے اس کا حال کچھ مخفی نہیں تھا لیکن وہ مجبور ومقہور تھے۔ اگر مان بھی لیا جائے کہ وہ خبیث مسلمان تھا تو وہ اتنے کبیرہ گناہوں کے ساتھ لتھڑا ہوا تھا کہ انہیں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ میرا مذہب اس لعین کے بارے میں یہ ہے کہ اس جیسے معین شخص پر لعن جائز ہے اور فاسقوں میں اس کی کوئی مثال نہیں ہے اور اس سے تو بہ بھی منقول نہیں ہے، اسکی توبہ کا احتمال اس کے ایمان سے بھی زیادہ ضعیف ہے۔ ابن زیاد اور ابن سعد کا بھی میرے نزدیک یہی حکم ہے۔ یزید پر لعنت کرتے ہوئے علامہ آلوسی نے کیا عظیم جملہ کہا ، فرماتے ہیں :

”اللہ تعالیٰ کی ان سب پر لعنت ہو، ان کے انصار و اعوان پر اور انکی جماعت پر اور قیامت تک جو انکی طرف مائل ہو ان سب پر اللہ کی لعنت ۔ جو یزید اور اسکے حواریوں پر لعنت نہ کرے وہ یزیدسے بھی زیادہ گمراہی میں مبتلا ہے۔“

علامہ سید محمود آلوسی ؒ نے یزید اور اسکے حواریوں پر لعنت کی ہے اور اس کے ایمان کے قائل نہیں ہیں ۔ اس کے ایمان کا کوئی کیوں کر قائل ہو جب اس نے کعبةاللہ پر منجنیقوں سے سنگ باری کی ، اللہ کے گھر پر آگ برسائی ، مکہ پر حملہ آور ہوا، اسکی حرمت کو پائمال کیا۔ کیا کوئی صاحب ایمان ایسا کر سکتا ہے ؟یقینا نہیں ۔ اس نے اپنے خون خوار بھیڑئے مسلم بن عقبہ کے ذریعے حرم نبوی کو پامال کیا، مسجد نبوی کو گھوڑوں کی لید سے بے آبرو کیا ۔ تین دن تک مسجد نبوی میں آذان نہ ہوئی ۔ سینکڑوں صحابہ کو شہید کیا ۔ ہزاروں تابعین کو تہہ تیغ کیا۔ انکی مستورات کی عصمت دری کی، جبراً ان سے زنا کروایا گیا۔ مدینہ میں قرآن و سنت کے قوانین کا وہ مذاق اڑایا گیا کہ کسی کافر نے کبھی بھی ایسا نہیں کیا۔ کربلا میں نواسہءرسول اور آپ کے جانثاروں کو شہید کیا ۔ انکی لاشوں پر گھوڑے دوڑائے ۔ مخدرات حرم نبوی کو بے پردہ کیا ، ان کو قیدی بنایا ۔ وہ توحید و رسالت کا منکر تھا۔ ظاہراً اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے تھا۔ سر کارﷺ کے زمانے میں عبد اللہ بن ابی بھی کلمہ پڑھتا تھا کیا لوگ اسے مسلمان سمجھتے تھے؟ اور کیا اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے سرکارﷺ کے اس پر جنازہ پڑھنے کو منع نہیں کیا؟ جب آپﷺ نے اس پر نماز جنازہ پڑھی تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا :

ولا تصل علی احد منھم مات ابدا ولا تقم علی قبرہ انھم کفرو ا باللہ ورسولہ۔۶

ترجمہ: ان میں سے کسی کی بھی نماز جنازہ نہ پڑھیں جب یہ مریں انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا ہے۔

 عبد اللہ بن ابی منکر توحید و رسالت تھا لیکن یزید اور اس کے حواریوں کا انکار ابن ابی سے کہیں بڑھ کر ہے۔ قابل افسوس ہیں وہ لوگ جو اسے مو

 من سمجھتے ہیں اور اس پلید کے نام سے پہلے ”سیدنا “لکھتے ہیں اور اس کے نام کے آخر میں رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں۔

 

کس گندگی کو اپنا رہے ہیں یہ لوگ !

کیا ایسا بد بو دار شخص سیادت یا رضائے خدا وندی کے قابل ہے جو مذکورہ بالا جرائم کا مرتکب ہوا ہو اور صد حیف ہے تم پر کہ جو لوگ صحابہ کو محض سب و شتم کریں انکو تم کافر کہو اور جنہوں نے صحابہ کو شہید کیا انکی مستورات سے بدکاری کی، ان کے مال کو مال غنیمت سمجھا تم انھیں رضی اللہ عنہ کہو۔ ہم ان لوگوں کو بھی قابل نفرت سمجھتے ہیں جو صحابہ کو گالیاں دیں اور ان لوگوں کو بھی جو یزید کو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ جو منکر رسالت ہے وہ قادیانی یا پرویزی کی صورت میں ہوتو وہ کافر ہے تو جو منکر رسالت، یزیدیت کی محبت کی صورت میں ہواس کا بھی اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تمہاری تکفیر کا پیمانہ حالات اور مفادات کے تحت کیوں بدلتا رہتا ہے۔ ایک جگہ ایک چھوٹا سا عمل تمہارے نزدیک تکفیریت کا باعث ہے تو پھر دوسری جگہ اسی قبیل کا بڑا عمل باعث تکفیر کیوں نہیں؟ کیونکہ وہاں ڈالر ہیں اور یہاں کچھ نہیں ہے؟سیم وزر کے بندو کل اپنے رب اور جسکا کلمہ پڑھتے ہو اسے کیا منہ دکھاﺅ گے؟

Show Buttons
Hide Buttons