سونے اور چاندی کے برتنوں کے احکام

عن ام سلمۃ زوج النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم قال الذی یشرب فی انیۃ الفضۃ انھا یجرجر فی بطنہ نار جھنم(الصحیح للمسلم کتاب اللباس والزینۃ باب التحریم استعمال اوانی الذھب والفضۃ فی الشرب وغیرہ۔علی الرجال والنسائ ص۔ ١٢٩۔ دار احیائ الترث العربی)۔

عن أم سلمۃ قالت قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ عیہ وآلہ وسلم  من شرب فی انائ من ذھب او فضۃ فانما یجرجر فی بطنہ نار من جھنم (حوالہ ایضاً)

پہلی حدیث کا ترجمہ:

حضرت ام سلمہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا: جو شخص چاندی کے برتن میں  پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں  جہنم کی آگ غٹاغٹ بھرتا ہے۔

دوسری حدیث کا ترجمہ:

حضرت ام سلمہؓ نے کہا۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک جو سونے اورچاندی کے برتن میں  پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں  غٹا غٹ جہنم کی آگ ڈالتا ہے۔

’’تشریح‘‘

پہلی حدیث میں  صرف چاندی کے برتنوں  میں  پینے پر وعید ہے جبکہ دوسری حدیث میں  سونے اور چاندی دونوں  کے برتنوں  کے استعمال پر وعید کی گئی ہے۔ یہ ممانعت مرد وزن سب کے لیے ہے۔ علامہ یحی بن شرف نووی کے نزدیک مسلمانوں  کے ساتھ ساتھ کفار بھی اس ممانعت میں  شامل ہیں  کیونکہ کفار بھی احکام فرعیہ کے مخاطب ہیں  بعض احناف اگرچہ اس کے قائل نہیں  ہیں ۔

امت کا ا س پر اجماع ہے کہ سونے اور چاندی کے برتن مردوں  اور عورتوں  پر حرام ہیں ۔ انکا استعمال مطلقا ممنوع ہے۔ حتی کہ ان میں  پیشاب کرنا بھی ممنوع ہے۔ ان دونوں  دھاتوں  سے بنائی گئی ہر چیز مردوں  اور عورتوں  پر حرام ہے۔ البتہ عورتوں  کے لیے سونے اور چاندی کے زیورات پہننے کی شریعت نے اجازت دی ہے سونے اور چاندی کے برتنوں  میں  پانی ڈال کر وضوئ یا غسل کرنا ممنوع ہے لیکن طہارت حاصل ہو جاتی ہے۔ ان برتنوں  کا کھانے کے لیے استعمال کرنا ممنوع ہے لیکن کھانا حرام نہیں  ہوگا ۔ ائمہ اربعہ امام مالک ، امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور امام ابو حنیفہ کے علاوہ سب ائمہ کا یہی خیال ہے۔نیز فقہہ جعفریہ میں  بھی مرد و زن کے سونے اور چاندی کے برتن استعمال کرنا حرام ہے۔

احناف کے نزدیک سونے یا چاندی کی ناک یا دانت لگوانا جائز ہے ۔ اما م شافعی نے کہا کہ مردوں  کے لیے سونا حرام ہے ایسا نہیں  کر سکتے۔

دوات اور قلم پر سونے کا پانی چڑھانا جائز ہے۔

چاندی سے مزین کی ہوئی چیزوں  کو استعمال کرناامام ابو حنیفہ  کے نزدیک جائز ہے۔

سونے اور چاندی کے علاوہ دیگر خوبصورت اور اعلیٰ کوالٹی کے برتن استعمال کرنا جائز ہے جیسے ۔ شیشہ ، یاقوت ،عقیق ،زمرد ، مرجان ، پیتل وغیرہ  کے برتن استعمال کیے جا سکتے ہیں  ۔

علت حرمت

فقہا نے علت حرمت فضول خرچی اور تکبر قرار دی ہے۔ اس کے علاوہ علت حرمت کی وجہ انکا تخلیقی اعتبار سے مال ہونا ہے۔ اگر اسکو جائز قرار دیا جائے تو بازار میں  اسکا رواج زیادہ ہو جائے گا اور اس سے بہت پریشانی اور اضطراب پیدا ہونے کا امکان ہے۔

سونے اور چاندی کے بٹن اور گھڑی کا چین۔

مسلم شریف کی حدیث نمبر ٥٩٢٥ کے مطابق حضرت اسما بن ابی بکر کے پاس ایک کسر وانی جبہ تھا جس کی آستینیں  اور گریبان پر ریشم کے نقش و نگار بنے ہوئے تھے۔ اس حدیث سے فقہائ نے استدلال کیا ہے چار انگل کے برابر ریشم کا کام کروانا جائز ہے۔ یہ کپڑے کا بالتتع ہوتے ہیں  اس طرح سونے اور چاندی اور دیگردھاتوں کے بٹن بھی بالتتع استعال کرنا جائز ہیں ۔گھڑی اور اس کے چین کابھی یہی حکم ہے۔

هذا ما عندی، والله ورسوله اعلم بالصواب

مفتی گلزاراحمد نعیمی

Show Buttons
Hide Buttons