سوال :کیا عذاب قبر قرآن و حدیث سے ثابت ہے :احسان اللہ کیانی

سوال :
کیا عذاب قبر قرآن و حدیث سے ثابت ہے ؟

جواب :
عذاب قبر کو سمجھنے سے پہلے یہ سمجھ لیجیے

انسانی زندگی کی تین طرح کی ہے
نمبر 1 :
دنیاوی زندگی
جو موت پر ختم ہو جاتی ہے

نمبر 2:
برزخی زندگی
جو موت کے بعد سے قیامت تک ہے

نمبر 3:
آخروی زندگی
جو قبر سے نکلنے کے بعد سے جنت و جھنم تک ہے

عذاب قبر برزخی زندگی سے تعلق رکھتا ہے
اس زندگی میں جو بھی عذاب ہوگا ،وہ عذاب قبر ہی کہلائے گا

برزخی زندگی کی دلیل بخاری شریف کی یہ حدیث ہے
إِنَّ العَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ، وَإِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ، أَتَاهُ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ
فَيَقُولاَنِ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا :
بے شک جب بندے کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے اصحاب اس سے منہ موڑ کر چلے جاتے ہیں
تو یقینا وہ ان کے قدموں کی آہٹ کو بھی سنتا ہے ،پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں
وہ اسے بٹھاتے ہیں ،اور وہ اس سے پوچھتے ہیں
تو محمد ﷺ کے بار ے میں کیا کہا کرتا تھا
(صحیح بخاری ،کتاب الجنائز ،باب ماجاء فی عذاب القبر )

اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا
بزرخی زندگی ایسی ہے
جس میں انسان سنتا بھی ہے اور بولتا بھی ہے

برزخی زندگی میں عذاب یا نعمت ملتی ہے
اسکی دلیل صحیح مسلم کی یہ حدیث مبارکہ ہے
” إِذَا مَاتَ الرَّجُلُ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَالْجَنَّةُ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَالنَّارُ، قَالَ: ثُمَّ يُقَالُ: هَذَا مَقْعَدُكَ الَّذِي تُبْعَثُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ”
ترجمہ:
نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا
تم میں سے جب کوئی آدمی فوت ہوتا ہے ،تو صبح شام اس پر اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے ،اگر وہ جنتی ہو تو جنت اور اگر جھنمی ہو تو جھنم کو پیش کیا جاتا ہے ،پھر اس سے کہا جاتا ہے یہ قیامت تک کیلئے تیرا ٹھکانہ ہے ،جہاں سے تجھے دوبارہ اٹھایا جائے گا
(صحیح مسلم ،کتاب الجنۃ و صفۃ نعیمھا )

اب ہم قرآن کریم کی آیات مبارکہ سے ایک اہم مسئلہ کی وضاحت کرتے ہیں
قرآن کریم کی سورت غافر کی آیت 45 اور 46 میں ہے
{ النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ، أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ العَذَابِ}
وہ آگ پر صبح اور شام پیش کیے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی، حکم ہوگا آل فرعون کو (مع فرعون کے) سخت تر عذاب میں داخل کرو۔

ان آیات مبارکہ سے چند باتیں معلوم ہوتی ہیں
نمبر 1
قیامت کے عذاب سے پہلے بھی ایک عذاب ہے
جو صبح شام فرعونیوں کو دیا جاتا ہے
جسے عذاب برزخ یا عذاب قبر کہا جاتا ہے

نمبر 2
فرعونی پانی میں غرق ہو کر ہلاک ہوئے تھے
لیکن
پھر بھی انہیں عذاب برزخ مل رہا ہے
اور
قیامت تک ملتا رہے گا
از
احسان اللہ کیانی
فروری ۔دو ہزار انیس

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of
Show Buttons
Hide Buttons