سوال کیا حاملہ عورت کو طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

سوال
کیا حاملہ عورت کو طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟
جواب.
طلاق بہت ہی قابل نفرت عمل ہے،جتنے بھی حلال اور جائز اعمال ہیں ان میں سب سے برا عمل طلاق ہے،جب بیوی حاملہ ہو تو طلاق دینا اور بری بات ہے،یہ بیوی کے ساتھ بھی ظلم ہے اور اپنے ہونے والی اولاد کے ساتھ تو ظلم کی انتہاء ہے،بہرحال حالت حمل میں طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے
اس مطلقہ کی عدت عام عورت کی سی نہیں ہے، اسکی عدت بچے کی پیدائش(وضع حمل) تک ہوتی ہے،بچہ طلاق کے ایک مہینہ بعد پیدا ہو یا پانچ مہینوں کے بعد
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے:
”وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُہُنَّ أَنْ یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ”
ترجمہ.اور حاملہ عورتوں کی عدت بچہ کی پیدائش تک ہے۔
(الطلاق :آیت نمبر ٤)
ازقلم:
مفتی گلزار احمد نعیمی

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of
Show Buttons
Hide Buttons