تکفیریت

اسلام نے ہمیشہ نظریہ اعتدال کے فروغ کے لئے تعلیمات الٰہی کا وسیع انتظام کیا گیا ہے ۔ قرآن مجید نے افراط و تفریط کی ہر لحاظ سے حوصلہ شکنی کی ہے ۔بطور خاص انتہاءپسندانہ رویہ کی شدید مذمت کی ہے ۔ انتہا پسندی اور شدت پسندی کے خلاف اسلام نے فکری ، نظریاتی اور عملی جہاد کیا ہے۔ انتہا پسندی کا سب سے بلند درجہ تکفیریت ہے ۔جب ایک انتہا پسند مسلمانوںکو اپنے خود تخلیق کردہ نظریات پر عمل کرتا نہیں پاتا تو وہ انہیں دائرہ اسلام سے خارج تصور کرتا ہے۔انکے خون کو مباح سمجھتا ہےاور ان کے مال کو مال غنیمت سمجھ کر لوٹنا عین اسلام سمجھتا ہےجبکہ اسلام نے ظاہری عمل کو بہت اہمیت دی ہے اور جو شخص بظاہر اسلام کے اصولوں پر کار بند ہے اسے مسلم قرار دیا ہے اور اس کی جان و مال کو معصوم و محفوظ قرار دیا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے

ولا تقولوا لمن القی الیکم السلام لست مومنا (النساء :۹۴)

ترجمہ: اور جو تمہیں سلام کرے اسے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے ۔

اس آیت مبارکہ سے صاف واضح ہو رہا ہے کہ احکام شرعیہ کا دارومدار صرف ظاہر پر ہے۔اسی بنا پر رسول خدا صلى الله عليه وآلہ وسلم نے اسامہ بن زیدؓ کی سرزنش فرمائی جب آپ نے ایک کلمہ پڑھتے شخص کو قتل کیا ۔ جب تک کسی شخص کے بارے میں شرح صدر نہ ہو جائے کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو گیاہے تب تک اسے کافر کہنا درست نہیں ہے۔ قرآن مجید میں ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے

ولکن من شرح بالکفر صدرا (النخل : ۶۔ ۱)

تکفیر کے لئے شرح صدرکا ہونا ضروری ہے اور طمانیت قلب کا ہونا بھی ضروری ہے ورنہ کفر کا فتویٰ نہیں لگانا چاہیئے۔

اللہ سبحانہ وتعالیٰ علام الغیوب ہے لیکن کیا خوبصورت انداز ہے لوگوں کو سمجھانے کا سورۃآل عمران میں فرمایا: ھم للکفر یومئذ أقرب منهم للایمان (آل عمران : ۱۶۷)

حالنكہ منافقین كے بارےاللہ رب العزت سے زیاده كون جانتا ہے كہ وه ایمان سے خالی تهے اور اسلام كے بد ترین دشمن تهے ،كافر نہیں فرمایا، احتیاط كا درس اس سے زیاده اور كیا ہو سكتا ہے۔

احادیث رسول مقبول صلى الله عليه وآلہ وسلم کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں واضح طور پر مفہوم ہوتا ہے کہ دین اسلام میں اتنی وسعت ہے کہ اس نے تکفیریت کی ہر موقع پر حوصلہ شکنی کی ہے اور خون مسلم کو اور مسلمان کی عزت وجائداد کو محفوظ و معصوم قرار دیا ہے ۔ آیئے ہم چند احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں

(تکفیر احادیث کی روشنی میں)

* عن ابن عمررضی اللہ عنھما أن النبي صلى الله عليه وآلہ وسلم قال: أيما رجل قال لأخيه يا كافر فقد باء بها أحدهما إن كان كما قال ، وإلا رجعت عليه (صحیح مسلم، کتاب الایمان، رقم ۲۱ )

* عن عمران بن حصین عن رسول اللہ صلى الله عليه وآلہ وسلم انه قال :اذا قال الرجل لأخیه یا كافر فهو كقتله

(مجمع الزوائد)

* عن أنس بن مالك قال قال رسول الله صلى الله عليه وآلہ وسلم من صلى صلاتنا واستقبل قبلتنا وأكل ذبيحتنا فذلك المسلم الذي له ذمة الله وذمة رسوله فلا تخفروا الله في ذمته

(بخاری ، كتاب الصلوٰۃ ، باب فضل استقبال القبلۃ رقم ۳۹۱)

* عن أنس بن مالك قال قال رسول الله صلى الله عليه وآلہ وسلم أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فإذا قالوها وصلوا صلاتنا واستقبلوا قبلتنا فقد حرمت علينا دماؤهم وأموالهم إلا بحقها وحسابهم على الله (بخاری ، رقم ۳۹۲)

* روی البخاری بسنده عن انس انه قال : كان رسول الله صلى الله عليه وآلہ وسلم اذا غزا قوما ما لم یغز حتی یصبح ، فاذا سمع اذانا أمسك و ان لم یسمع أ ذانا اغار بعد ما یصبح (صحیح بخاری )

تكفیر علمائے سلف كی روشنی میں

* اہل قبلہ کی عدم تکفیر پر علماء سلف کا اجماع ہے بشرطیکہ وہ ضروریات دین میں سے کسی کا انکار نہ کریں

۱۔ میر سید شریف جرجانی نے حضرت امام ابو حنیفہ ؒ سے نقل کیا ہے : انه لم یكفر احدا من اهل القبلۃ (شرح المواقف، سید الشریف الجرجانی، ج ۲ ص۱۹۲)

۲۔ امام اوزاعی : والله لو نشرت لا اقول بتكفیر احد من اهل الشهادتین

(الفصول المهمۃ فی تالیف الامۃ ص ۷۰)

۳۔ ابن سیرین (۱۱۰ھ) کہتے ہیں: اھل القبلۃ كلهم ناجون

(الفصول المهمۃ فی تالیف الامۃ ص ۷۰)

۴۔ قاضی ابو یوسف شهادتین كہنے والوں کو محفوظ و معصوم الدم فرماتے تھےان کے نزدیک شہادتین بولنے والا مسلمان ہے اور عدم تکفیر کی یہ وجہ بیان کی : لأن المرء یسلم بنطق الشھادتین (شرح معانی الآثار، الطحاوی، ج ۳ ، ص۲۱۵)

۵۔ امام محمد حسن شیبانی بھی مذہب امام ابو یوسف پر فتویٰ دیا کرتے تھے وہ فرماتے تھے:لانه یدخل الاسلام بنطقه الشهادتین

۶۔ امام شعرانی نے شیخ الاسلام مخزومی سے نقل كیا وقد نص الامام الشافعی علی عدم تكفیر اهل الأهواء فی رسالته وقال لا اكفر اهل الاهواء بذنب ، لا اكفر من اهل القبلۃ

(الیواقیت والجواهر، ج ۲، مبحث ۵۸،ص۱۲۶)

۷۔امام غزالی: كف لسانك عن اهل القبلۃ ما امكنك ما داموا قائلین لااله الاالله محمد الرسول الله ، غیر مناقضین لها ۔ فیصل التفرقۃ بین الاسلام والزندقۃ (ابو حامد الغزالی، ص ۸۵)

۸۔ امام احمد بن حنبل : ولا نشهد علی احد من اهل القبلۃ انه فی النار لذنب عمله (رسالۃ السنۃ ، احمد بن حنبل ، ص ۷۰)

۹۔ابن عساكر دمشقی : فمن اقدم علی التكفیر فقد عصی سید المرسلین (تبین كذب المفتری، ابن عساكر ،ص ۴۰۵دارالكتاب العربی ،بیروت)

۱۰۔محی الدین ابن عربی: ایاكم و معاداۃ اهل لااله الا الله (الفتوحات المكیه )

۱۱۔ امام نووی(یحییٰ بن شرف النووی): اعلم ان مذھب اهل الحق انه لا یكفر احد من اهل القبلۃ بذنب

(شرح النووی علی صحیح المسلم، ج ا ، ص ۱۳۴)

۱۲۔ ابن قیم الجوزیه (یہ شیخ ابن تیمیه كے مشهور شاگرد هیں): الفاسق باعتقاده اذا كان متحفظا فی دینه فانّ شهادته مقبولۃ لا نكفرهم كالرافضۃ والخوارج والمعتزلۃ و نحوهم ۔

(الطرق الحكمیۃ فی السیاسات الشرعیۃ ، ج۱، ص۲۵۳، مطبع المدنی قاهره )

۱۳۔ شیخ ابن تیمیه خوارج كے بارے میں لكهتے هیں فالصحابۃ رضی الله عنهم والتابعین لهم باحسان لم یكفرو هم ولاجعلو هم مرتدین هكذا سائر فرق اهل البدع والاهواءمن الشیعۃ والمعتزلۃ و غیرهم (منهاج السنۃ ، ج ۵ ،ص۲۴۷)

اسی طرح میں نے جتنے بهی ائمہ سلف كے نظریات كا مطالعه كیا ان كے نظریات ااہل قبلہ کی عدم تکفیر کے بارے میں بالکل واضح اور غیر مبھم ہیں حتی کہ شیخ ابن تیمیہ نے یہاں تک کہ دیا کہ صحابہ اور تابعین نے خوارج کی تکفیر نہیں کی اور نہ انہیں مرتد قرار دیا تو یہی حکم شیعہ اور معتزلہ کا ہے ۔ شیخ ابن تیمیہ کی یہ عبارت تکفیریوں کو کیں نظر نہیں آتی؟

 

Show Buttons
Hide Buttons