اسلام کے تصور اعتدال کو رواج دیا جائے۔۔۔۔۔علماء اپنے خطبات میں محبت رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اجاگر کریں۔۔۔۔۔دہشت گردی و انتہا پسندی کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی کریں.....رمضان المبارک ہمیں انسانیت سے محبت کا درس دیتا ہے: مفتی گلزار احمد نعیمی
حضرت عائشہؓ کا فقہی مقام PDF Print E-mail

 

ام المومنین حضرت عائشہؓ کا فقہی مقام

تحریر: مفتی گلزار احمد نعیمی

حضرت،عائشہ،کا،فقہی،مقام،تحریر،مفتی،گلزار،احمد،نعیمی


ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شخصیت پر مختلف حوالوں سے گفتگو کی جا سکتی ہے اور آپؓ کی شخصیت کا ہر ہر پہلو اس قابل ہے کہ اس پر لکھا جائے بولا جائے اور تحقیق کی جائے تاکہ امت اس عظیم خاتون کے کارناموں سے روشناس ہو سکے ۔آپ کا علمی مقام ، آپ کی عفت و طہارت ، آپ کی علمی بصیرت اور فقہی مقام بے مثال ہیں ۔ فی الوقت ہم آپ کے فقہی مقام پر گفتگو کریں گے ۔
آپ ایک فقہیہ کی حیثیت سے مشہور تھیں آپکا لقب صدیقہ اور حمیرا تھا۔ اپنے بھانجے عبداللہ بن زبیر کی وجہ سے ام عبداللہ کہلاتی تھیں۔
اول دن سے ہی اسلام میں آنکھ کھولی۔پوری زندگی مردوں اور عورتوں میں اسلام کے احکام وقوانین، اخلاق وآداب کی تعلیم دینے میں گزاری۔آپؓ نے صرف احادیث ہی روایت نہیں کیں بلکہ آپ عظیم فقہیہ، بے مثال مفسرہ اور مجتہدہ بھی تھیں۔آپؓ کا شمار ان چند فقہائے مدینہ میں ہوتا ہے کہ جن کے فتوے پر لوگ مکمل اعتماد کرتے تھے۔آپ کی صورت حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دو مرتبہ خواب میں دکھائی گئی۔ آپکا لڑکپن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں گزرا۔آپ علم الانساب، شعر وادب میں یکتا تھیں۔ آپ کو طب میں بھی کمال کی مہارت حاصل تھی نیز فرائض(علمِ میراث) میں بھی۔آپؓ ہفتے میں ایک دن خواتین کو تعلیم دیتی تھیں۔عورتیں شوہر کے مرنے کے بعد آزاد ہوجاتی ہیں مگر آپؓ نے حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشن کو آگے بڑھایا اور ہمہ وقت قرآن وسنت کو پھیلانے میں مصروف رہیں۔آپؓ کی والدہ ام رومان زینب بنت عامر تھیں، حضرت عبدالرحمنؓ آپ کے سگے بھائی تھے۔ ہجرت سے دوسال قبل آپ کا نکاح ہوا،ایک قول کے مطابق تین سال قبل، اس وقت آپؓ کی عمر کے حوالے سے مختلف اقوال ہیں ۔ 6سال، 7سال، 9سال اور 12سال۔آپؓ کی رخصتی غزوہ بدر کے بعد 2ھ میں ہوئی۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں آپؓ نے 8سال اور 5ماہ گزارے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت آپ کی عمر 18سال تھی۔آپؓ نے 2210احادیث روایت کی ہیں۔سن وفات آٹھ رمضان یا آٹھ شوال 55ھ، 56ھ 57ھ یا 58ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔
فقہی مقام
ابو مسلم عبدالرحمن کہتے ہیں ، حدیث رسول ؐ، سنن رسول ؐ، فقہی آراء، آیات کے شانِ نزول اور فرائض میں عائشہؓ سے بڑھ کر کوئی عالم نہ تھا۔قرآن کی حافظہ تھیں، آپ نے اپنے غلام ابو یونس سے ایک نسخہ تیار کرواکر رکھا ہوا تھا۔ مگر اس کا وجود اب کہیں نہیں ہے۔ کبھی اپنی تعریف کو سننا پسند نہیں فرمایا۔ انہوں نے ساری زندگی حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماکو اپنے پاس حاضر ہونے کی اجازت نہ دی کیونکہ عبداللہؓ آپ کی اپنی نجی محفلوں میں بہت تعریف کرتے تھے۔ انہیں ڈر تھا کہ وہ آپ کی تعریف نہ کردیں۔بہت بہادر خاتون تھیں کئی جنگوں میں شرکت کی اور رات کی تاریکی میں اکیلے قبرستان چلی جاتی تھیں۔جب مروان نے مدینہ میں یزید کی بیعت لینے کا اعلان مسجد نبوی میں کیا تو آپؓ کے بھائی عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اس کی مخالفت کی، مروان انہیں قتل کرنے کے لیے جھپٹا تو عبدالرحمنؓ بھاگ کر حجرۂِ عائشہؓ میں چلے گئے۔ مروان نے ان کے خاندان کو برا بھلا کہنا شروع کردیا توحضرت عائشہؓ نے اس کو ترکی بہ ترکی جواب دیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد آپؓ ہر سال حج کے لیے جاتی تھیں اور خیمہ غار حرا کے پاس لگاتی تھیں8 تاکہ لوگوں کو ڈھونڈنے میں آسانی رہے۔ ابوموسیٰ اشعریؓ فرماتے ہیں جب ہمیں کوئی مشکل مسئلہ پیش آتا تو ہم عائشہؓ کی طرف رجوع کرتے اور مکمل جواب پاتے۔

آج بھی مسجد نبوی میں ایک ستون ’’اسطوانۃ عائشہؓ ‘‘کے نام سے موسوم ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں حضرت عائشہؓ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تعلیم دیا کرتی تھیں۔موؐرخین کا اس پر اتفاق ہے کہ دین کا 1/4حصہ حضرت عائشہؓ سے امت کو منتقل ہوا ہے۔ آپ نے 48سال تک اپنے حجرے میں بیٹھ کر امت کے افراد کو تعلیم دی ۔ حتیٰ کہ جب حضرت عمرؓ اس حجرے میں دفن ہوئے تو تب آپؓ نے یہ ہجرہ چھوڑا ۔زندگی بھر افتاء کا کام کیااور معمولی مسائل پرنہیں بلکہ اہم اور دقیق مسائل پر آپؓ فتوی دیا کرتی تھیں۔ علامہ جلال الدین سیوطیؒ نے ایک رسالہ میں لکھا ہے جس کا نام ہے ’’عین الاصابہ فیما استدرکتہ عائشہ علی الصحابہ‘‘ اس میں آپ نے حضر ت عائشہؓ کے ان فتاوی کا ذکر کیاہے جو انہوں نے صحابہ کے دیئے گئے فتاوی کی غلطیاں بیان کیں۔ یعنی فقہی مسائل میں صحابہؓ سے کہاں کہاں غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔ حضرت عائشہؓ نے ان کی وضاحت کی ، علامہ سیوطی ؒ نے انہیں اس رسالے میں یکجا کیا ۔مثلاً حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فتوی دیا کہ حالت جنابت میں روزہ نہیں رکھا جاسکتا حضرت عائشہؓ اور ام سلمہؓ نے فرمایا تمہاری رائے درست نہیں ہے یہ ہم جانتی ہیں کہ حالت جنابت میں روزہ رکھا جاسکتا ہے یا نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حالت جنابت میں روزہ رکھتے تھے اور بعد میں غسل فرما لیا کرتے تھے۔امام زہریؒ نے فرمایا کہ عائشہ سب سے زیادہ عالم تھیں اور اکابر صحابہؓ ان سے مسائل پوچھتے تھے۔ زہری نے کہا کہ صحابہ اور ازواج کے علم کو ایک طرف رکھ لیا جائے اور عائشہؓ کے علم کو دوسری طرف تو عائشہ کا علم بڑھ جائے گا۔

 
احکامات حج PDF Print E-mail

احکامات حج
تحریر: مفتی گلزار احمد نعیمی

مفتی گلزار احمد نعیمی ناظم اعلی و شیخ الحدیث جامعہ نعیمیہ اسلام آباد

 

حج: حج کا لغوی معنی ارادہ کرنا اور زیارت کرنے کے آتے ہیں۔ اسکا اصطلاحی معنی مخصوص جگہ(بیت اللہ) کا مخصوص فعل کے ساتھ مخصوص زمانے میں ارادہ کرنا حج کہلاتا ہے۔ حج اسلام کے5 ارکان میں سے آخری رکن ہے۔

فرضیت حج: فرضیت حج کے حوالے سے متعدد اقوال ہیں۔ ۹ھ،۶ھ اور ۵ھ کے اقوال ملتے ہیں، بعض علماء نے فرمایا ہے کہ حج ہجرت مدینہ سے پہلے فرض ہوچکا تھا۔ حج سورہ ال عمران کی آیت نمبر۹۷ کے حکم کے تحت فرض ہوا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے ’’ ۔۔۔ ‘‘’’اور لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے لیے بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے جو اس کی طاقت رکھتا ہو اور جو کفر کرے تو اللہ تعالیٰ جہاں والوں سے مستغنی ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت فرماتے ہیں نبی دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا : ’’یایھا الناس قد فرض علیکم الحج فحجوا فقال رجل اکل عام فسکت حتی قا لھا ثلاثاً فقال لوکنت نعم لو جبت (مسلم) ترجمہ: اے لوگو! تم پر حج فرض کردیا گیا ہے تو حج کیا کرو۔ ایک شخص نے عرض کی ۔ کیا ہر سال؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے یہاں تک کہ اس نے تین دفعہ دہرایا آپ نے فرمایا اگر میں ہاں کہہ دیتا تو فرض ہوجاتا۔
قرآن و حدیث کے علاوہ پوری امت کا فرضیت حج پر اجماع ہے اور اس کا انکار کرنے والا بالاتفاق کافر ہے۔ اگر استطاعت کے باوجود حج نہیں کرتا تو مستحقِ عذاب ہے۔ یہ بڑا اہم سوال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی عمر شریفہ میں کتنے حج فرمائے؟ ہمارے بعض احباب کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زندگی میں ایک ہی حج کیا ہے لیکن یہ بات درست نہیں ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباسؓ نے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت سے پہلے تین حج فرمائے ۔اگر حجۃ الوداع کو شامل کیا جائے (جوآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کے بعد فرمایا )۔تو بقول ابن عباسؓ کل تعداد چار(4)بنتی ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف تین حج ادا فرمائے ہیں۔ اسی طرح اور بھی اقوال ملتے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے متعدد حج ادا فرمائے ہیں۔
فضلیت حج: رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعدد فرمامین سے فضیلت حج کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
* فرمایا: حج کیا کرو، حج گناہوں کو ایسے دھو ڈالتا ہے جس طرح پانی میل کچیل کودھودیتا ہے۔
* حضرت ابوہریرہؓ روایت فرماتے ہیں آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص اللہ سبحانہ وتعالی کے لیے حج کرے اور اس دوران عورت سے ہمبستری نہ کرے اور نافرمانی نہ کرے تو وہ حج سے ایسے واپس لوٹے گا جیسے نومولود ہوتاہے۔
شرائط حج: جن شرائط کی موجودگی میں حج فرض ہوتا ہے ۔یہ مندرجہ ذیل ہیں اگر ان میں سے ایک بھی نہ پائی جائے تو حج فرض نہیں رہتا۔
*:مسلم ہونا: کسی غیر مسلم کا حج قبول نہ ہوگا
*:بالغ مسلم: مسلمان بھی ایسا جو بالغ ہو، نابالغ پر حج فرض نہیں ہے۔
*:عاقل مسلم: جس مسلمان کی ذہنی کیفیت درست نہیں ہے اس پر حج فرض نہیں ہے۔
*:صحت مند مسلم: اگر صحت اجازت نہیں دیتی تو حج فرض نہی ہے لیکن اگر اس نے کچھ عرصہ ایسے گزارا کہ تمام شرائط کے ساتھ اس پر حج فرض ہوگیا تھا لیکن اب صحت نہیں رہی تو اس کے لیے کسی دوسرے مسلمان کر حج پر بھیجنا ضروری ہے جو اس کی طرف سے حج کرے جسے حج بدل کہتے ہیں۔
*:صاحب ثروت مسلم: حج اس صورت میں فرض ہے جب ایک مسلمان حج کے جملہ اخراجات پورے کرنے کا متحمل ہو علاوہ ازیں اپنے گھر کے اہل وعیال کے جملہ اخراجات اس کی واپسی تک موجود ہوں۔
*:عورت کے لیے محرم کا ہونا: عورت اگر کعبۃ اللہ سے ۵۷ میل (۴فرلانگ) کی مسافت یا اس سے زائد فاصلے پر رہتی ہے تو وہ اکیلے سفر حج نہیں کرسکتی اس کے لیے محرم کا ہونا ضروری ہے۔ محرم اس مرد کو کہتے ہیں جس کا اس حاجن خاتون کے ساتھ نکاح حرام مؤبد (ہمیشہ کے لیے حرام) ہے ، محرم کا بالغ اور نیک ہونا بھی ضروری ہے۔
*:راستہ پر امن ہو، حج کے لیے ضروری ہے کہ حاجی جس راستے سے سفر کرنا چاہتا ہے وہ پرامن ہو اس کے جان اور مال واسباب، سواری وغیرہ کو کوئی خطرہ نہ ہو۔
*:ایام حج: حج صرف ایام حج ہی میں ادا کیا جاسکتا ہے درجہ بالا شرائط کی موجودگی میں بھی اگر ایام حج نہیں آئے تو کوئی شخص حج ادا نہیں کرسکتا۔
:فرائض حج
*:نیت: نیت دل کے ارادے کا نام ہے یعنی حاجی دل میں حج کا ارادہ کرے
*:احرام: دو سفید ان سلے کپڑے بطور لباس احرام ہے ، یہ حج کی شرط ہے۔
*:وقوف عرفہ: نویں ذوالحجہ کو بعد از دوپہر سے دسویں ذوالحجہ کی صبح صادق سے پہلے پہلے میدان عرفات میں ٹھہرنا ۔ یہ حج کا رکن اعظم ہے۔
*:طواف زیارت: یہ بھی حج کا رکن ہے
*:ترتیب: یعنی سب سے پہلے احرام باندھنا پھر وقوف عرفہ اور پھر طواف زیارت ۔
واجبات حج:
*:میقات سے احرام باندھنا *:سعی (صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنا) *:غروب آفتاب تک میدان عرفات میں ٹھہرنا
*:مزدلفہ میں ٹھہرنا *:عرفات سے امام کے ساتھ واپس مزدلفہ آنا *:مغرب اور عشاء کی نمازیں، عشاء کے وقت میں مزدلفہ میں ادا کرنا
*: 10ذوالحجہ کو صرف پہلے جمرہ (شیطان/ستون) کو سات *:کنکریاں مارنا اور 11اور13ذوالحجہ کو تینوں جمروں (شیطانوں) کو کنکریاں مارنا
*:11ذوالحجہ کو کنکریاں پہلے مارنا اور حلق بعد میں کروانا *:حلق یا قصر دو اور بارہ ذوالحجہ کے درمیان کسی دن حرم کی حدود میں ہی کرنا۔
*:حج تمتع یا حج قِران کے لیے قربانی واجب ہے اور یہ ایام قربانی اور حرم کے اندر ہو۔ *:سعی اور طواف اگر عذر نہ ہو تو پیدل کرنا
*:دائیں طرف سے طواف شروع کرنا اور سعی صفا سے شروع کرنا واجب ہے۔ *:طواف کے وقت ستر ڈھانپ کر رکھنا
*:بعد از طواف 2رکعت نفل ادا کرنا ۱۵:حلق/قصر اور طواف زیارت میں ترتیب رکھنا *:احرام کی تمام حدود وقیود کا خیال رکھنا
سنتیں:
*: طواف قدوم (حج مفرد اور حجر قِران کرنے والوں کے لیے) *:حجر اسود سے طواف شروع کرنا *:رمل کرنا *:سعی کے دوران دونوں سبز لائٹوں کے درمیان دوڑنا
*:امام کا سات ذوالحجہ کو خطبہ دینا *:۹ ذوالحجہ کو عرفات میں خطبہ دینا *:۱۱ ذوالحجہ کو خطبہ دینا *:آٹھویں ذوالحجہ کو مکہ سے منی پہنچ کر پانچ نمازیں پوری کرنا
*:نویں رات منی میں گزارنا *:10ذوالحجہ کو طلوع آفتاب کے بعد منی سے عرفات جانا *:وقوف عرفہ کے غسل کرنا
*:عرفات سے واپسی پہ مزدلفہ رات گزارنا *:10ذوالحجہ کو طلوع آفتاب سے پہلے مزدلفہ سے منی روانہ ہونا *:گیارہ اور بارہ کی راتیں منی میں گزارنا
*:وادی محصب( ابطح) میں کچھ دیر ٹھہرنا
محرمات حج:
*: عورت سے کسی قسم کا استفادہ کرنا *: فحش گفتگو *: شکار *:ناخن کاٹنا *:ناخن، بال کٹوانا *:منہ یا سر کو چھپانا *: خوشبو لگانا
۸: جوؤں کو مارنے کے لیے بالوں کو دھونا *:وسمہ یا مہندی یا کوئی ہیئر کلر استعمال کرنا *: کسی قسم کا جانور مارنا
نوٹ: فرائض میں سے اگر ایک بھی رہ جائے تو حج فاسد ہوجائے گا اگر واجب رہ جائے تو دم (قربانی) آئے گا۔ سنتوں سے محرومی، ثواب سے محرومی ہے اور حج کے روحانی ثمرات سے محرومی ہو گی۔

 
Mufti Gulzar Ahmed Naeemi on Geotaiz (22-07-2014) Part 1 PDF Print E-mail

JavaScript is disabled!
To display this content, you need a JavaScript capable browser.

 
Helpless Muslims of Ghaza PDF Print E-mail

 

غزہ کے بے بس مسلمان                                                             (تحریر: مفتی گلزار احمد نعیمی)

یا جیوش الباکستان۔۔۔۔۔۔۔حیالحکم القرآن

نئے ’’خلیفۃ المسلمین‘‘ ابو بکر بغدادی صاحب کو بھی اپنے پڑوس میں اسرائیلی بربریت اور ظلم و ستم نہیں دِکھ رہا۔ یہ حضرت جب بھی نیند سے بیدار ہوتے ہیں تو اسلام کے لیے انہیں سب سے بڑا خطرہ انبیاء و صالحین کے مزارات ہی نظر آتے ہیں اور وہ انہیں مسمار کرنے کے لیے چڑھ دوڑتے ہیں۔ کیا یہی حق خلافت ہے؟ کیا یہی خالد بن ولیدؓ اور محمد بن قاسم ؒ کی سنت ہے؟ شامی باغیو! کیا تمہیں میرے فلسطینی بچوں کی آہ و بکا سنائی نہیں دیتی۔ غزہ تمہارے پڑوس میں ہی تو ہے۔ کبھی ان مظلوم بچوں کے پیاسے حلقوں میں اسرائیلی درندوں کی پیوست گولیوں کو ہی دیکھ لو۔ مجھے یقین ہے کہ تم ان مظلوموں کی مدد نہیں کرو گے۔ تمہاری سنیّت کہاں گئی ہے؟ کیا فلسطینی سنی نہیں ہیں؟ ہمیں پتہ ہے تمہارے ذہنوں میں سنیت کا ایک خاص مفہوم ہے۔ یعنی جو امریکہ اور استعمار کا وفادار ہے وہ سنی ہے۔

Helpless Muslims of Ghaza

’’اے افواج پاکستان، قرآن کی حکمرانی کے لیے ہماری مدد کو آو‘‘ یہ پکار تھی ان ہزاروں فلسطینیوں کی جن کو اسرائیلی جنگی جہازوں اور میزائیلوں نے بمباری کرکے اپنے گھروں سے محروم کر دیا ہے، انکے بچوں کو ان سے جدا کر دیا ہے اور وہ بے بسی کی تصویر بنے اپنے مسلمان بھائیوں کو مدد کے لیے پکار رہے ہیں، مگر ان کی مدد کے لیے کوئی مسلمان ملک تیار نہیں ہے، بلکہ بے حسی کا یہ عالم ہے کہ ان کی حمایت میں کسی مسلمان حکمران کا کوئی قابل ذکر بیان تک نہیں آیا۔ ہمارے وزیراعظم نے فرمایا ’’غزۂ پر اسرائیلیوں کا تشدد ناقابل قبول ہے‘‘ البتہ وزیراعلٰی پنجاب نے قدرے سخت بیان دیا جو قابل تعریف ہے۔ وزیراعلٰی شہباز شریف نے فرمایا ’’اسرائیلی جارحیت قابل مذمت اور ناقابل برداشت ہے۔‘‘ عرب دنیا کو تو سانپ سونگ گیا ہے، غیر یقینی صورت حال کے بادل ان کی بادشاہتوں پر منڈلا رہے ہیں۔ وہ اس خوف میں مبتلا ہیں کہ نجانے کب انہیں صدام اور قذافی جیسے انجام سے دوچار ہونا پڑ جائے۔ انکی بادشاہتیں متزلزل ہیں۔ اس لیے وہ غزہ کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں کچھ کہنے سے قاصر ہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل جو کچھ غزہ میں کر رہا ہے، وہ دو عرب ممالک کی مدد سے کر رہا ہے۔

مصر اپنے فلسطینی بھائیوں کی مدد کرسکتا ہے، مگر وہ درپردہ اسرائیل کو سپورٹ کر رہا ہے۔ مرسی کو قید میں ڈال کر سیسی کو اقتدار پر براجمان کرنا اس مقصد کے حصول کے لیے تھا۔ سعودی عرب بھی خوش ہے کہ حماس پٹ رہی ہے کہ اس سے ایران مشکل میں پڑے گا کیونکہ عرب دنیا اور عموماً مغربی دنیا بھی حماس کو ایران کی پراپرٹی سمجھتی ہے۔ یہ امت کی نہایت بدقسمتی ہے کہ وہ اپنے باہمی اختلاف کو اس موڑ پر لے گئے ہیں کہ جہاں سے انکی واپسی ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوچکی ہے۔ وہ استعمار کے ہاتھوں ایک دوسرے کا نقصان کرا کے بہت مطمئن ہیں۔ یہ کتنی بدقسمتی ہے کہ سعودی عرب، قطر، مصر اور ترکی اپنے آپ کو سنی کہتے ہیں اور حماس بھی سنی تنظیم ہے، مگر وہ اسرائیل کے مظالم کو حماس کے کھاتے میں ڈال کر مسلم خون کو رائیگاں بہانے دے رہے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عرب عوام اپنے حکمرانوں کی طرح نہیں سوچ رہے، انکی تمام تر ہمدردیاں اپنے فلسطینی مظلوم بھائیوں کے ساتھ ہیں۔ وہ اپنے بھائیوں کی ہر سطح پر مدد کرنا چاہتے ہیں، مگر ان کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ انکے ضمیر فروش حکمران ہیں، جو اپنی بادشاہتوں کو بچانے کی غرض سے اسلام اور اہل اسلام کو استعمار کے خون خوار بھیڑیوں کے آگے اپنے ہاتھوں سے خود ڈال رہے ہیں۔ یااسفا۔

دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ حماس نے جوابی کارروائی کے طور پر اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب پر 150 راکٹ داغے ہیں تو اس سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو بہت تکلیف ہوگئی ہے، اس نے حماس کو وارننگ دی ہے کہ مزید کوئی راکٹ حماس کے مجاہدین کی طرف سے نہیں چلنا چاہیے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اقوام متحدہ یہ چاہتا ہے کہ فلسطینی خاموشی سے یہ ظلم سہتے رہیں اور بغیر کسی جوابی کارروائی کے لقمہ اجل بنتے رہیں۔ شاید اقوام متحدہ کا یہی مقصد ہے کہ مسلمانوں کو جتنا ممکن ہو کمزور کیا جائے، تاکہ وہ امریکہ اور یورپ کے سامنے سر نہ اٹھا سکیں۔ فلسطینیوں کے راکٹوں نے UNO کے سیکرٹری جنرل کو پریشان کر دیا ہے لیکن اسرائیلی مظالم کی وجہ سے عرب لیگ یا OIC کے مزاج پر کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔ کوئی وارننگ کوئی مذمت؟ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔ حتی کہ نئے ’’خلیفۃ المسلمین‘‘ ابو بکر بغدادی صاحب کو بھی اپنے پڑوس میں اسرائیلی بربریت اور ظلم و ستم نہیں دِکھ رہا۔ یہ حضرت جب بھی نیند سے بیدار ہوتے ہیں تو اسلام کے لیے انہیں سب سے بڑا خطرہ انبیاء و صالحین کے مزارات ہی نظر آتے ہیں اور وہ انہیں مسمار کرنے کے لیے چڑھ دوڑتے ہیں۔ کیا یہی حق خلافت ہے؟ کیا یہی خالد بن ولیدؓ اور محمد بن قاسم ؒ کی سنت ہے؟

شامی باغیو! کیا تمہیں میرے فلسطینی بچوں کی آہ و بکا سنائی نہیں دیتی۔ غزہ تمہارے پڑوس میں ہی تو ہے۔ کبھی ان مظلوم بچوں کے پیاسے حلقوں میں اسرائیلی درندوں کی پیوست گولیوں کو ہی دیکھ لو۔ مجھے یقین ہے کہ تم ان مظلوموں کی مدد نہیں کرو گے۔ تمہاری سنیّت کہاں گئی ہے؟ کیا فلسطینی سنی نہیں ہیں؟ ہمیں پتہ ہے تمہارے ذہنوں میں سنیت کا ایک خاص مفہوم ہے۔ یعنی جو امریکہ اور استعمار کا وفادار ہے وہ سنی ہے۔ داعش والوں سے جب پوچھا گیا کہ تمہاری تنظیم نے اسرائیل کے خلاف قیام کیوں نہیں کیا؟ اہل عراق و شام کے قتال کو کیوں ترجیح دی ہے؟ تو جواب فرمایا ’’قرآن نے پہلے منافقین جو عدو قریب ہے اسکا قلع قمع کرنے کا حکم دیا ہے، کیونکہ یہ اصلی کافروں سے بڑا خطرہ ہے۔‘‘ عجیب منطق ہے، یہ خود ساختہ فلسفہ جہاد ہے، قرآن کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ اور ہے۔ سنت مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو یہ ہے کہ منافقین آپ کے ساتھ ہر جنگ میں شریک رہے تھے اور قدم قدم پر نقصان بھی پہنچاتے تھے اور کئی دفعہ ان کے خلاف کارروائی کا مشورہ بھی دیا گیا، مگر کریم آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کفر یہ کہے گا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنوں کو مارنا شروع ہو گیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے۔

تم نے یہ فلسفہ کہاں سے گھڑ لیا ہے کہ پہلے اپنوں کو مارو اور پھر اسرائیل کی طرف متوجہ ہو؟ اصل بات یہ ہے کہ تمہارا اور اسرائیل کا پرورد (financer) ایک ہی ہے۔ تم ایک ہی مقصد کے حصول کے لیے ہتھیار اٹھائے ہوئے ہو۔ تم ہمیشہ مسلمانوں کو نقصان پہنچاؤ گے۔ کیا تمہیں اس فلسطینی بچے کی آہ و بکا اسکی مدد پر مجبور نہیں کرتی کہ جس کے باپ کو پولیس تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے اور اسکا بیٹا یابابا، یابابا کی بے بس صدائیں دے رہا ہے۔ مگر یہودی بدمعاش اس کے بابا کو اس کی آنکھوں سے غائب کر دیتے ہیں اور وہ نہایت کسمپرسی کی حالت میں بے یار و مددگار کھڑا ہے۔ اسکی آنکھیں اپنے بابا کا تعاقب کر رہی ہیں او وہ اس صدمے سے زمین پر گر پڑتا ہے کہ اب اسے اپنے بابا کی گود میں اٹھکیلیاں لینا کبھی نصیب نہ ہوگا۔ یہ بچہ اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے اسرائیلی ظالموں سے اپنے بابا کو واپس مانگ رہا تھا جو اسے گاڑی میں بٹھا کر اسکی آنکھوں سے دور لے گئے، کیا اس بچے کی بے بسی نے تمہیں کچھ سوچنے پر مجبور نہیں کیا۔؟

عربوں کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ عرب بھائی انکی آنکھوں کے سامنے درندگی کا نشانہ بن رہے ہیں اور وہ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہوا اور اس بے حسی کا مظاہرہ عرب پہلے بھی کرچکے ہیں۔ 1982ء میں صابرہ اور شتیلا کے مہاجر کیمپوں کے پناہ گزینوں پر اسرائیل نے مسلسل 48 گھنٹے بارود کی بارش جاری رکھی، جس کے نتیجے میں آٹھ ہزار فلسطینی مسلمان شہید ہوئے۔ 2008ء میں اسرائیلیوں نے 1400 فلسطینیوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ 2010ء میں محصورین کی امداد کے لیے جانے والے بحری جہاز freedom flotilla پر حملہ کرکے اسرائیل نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی اور اس جہاز سے خوراک اور ادویات کو چھین لیا۔ اس جہاز کے سب مسافروں کو قید کر لیا، جن میں پاکستان کے ایک مشہور اینکر پرسن طلعت حسین بھی شامل تھے۔ ان سب مواقع پر عرب حکمرانوں نے ذرا بھی غیرت ملی اور غیرت ایمانی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

آج فلسطینی مسلمانوں کو غزہ میں اسرائیل بحری جہازوں سے سمندر کی طرف سے نشانہ بنا رہا ہے۔ فضائی حملوں سے ایف سولہ اور دیگر جیٹ طیاروں اور میزائیلوں سے نہتے مسلمانوں پر آگ بر سا رہا ہے اور اب ہزاروں ٹینک اس نے غزۂ میں لا کھڑے کئے ہیں اور یہ ٹینک اور توپیں مہیب آگ کے گولے بر سا رہے ہیں۔ اسرائیل ہر طرف سے فلسطینی مسلمانوں کو گھیرے ہوئے ہے اور ان مظلوموں کو کسی طرف سے امداد اور داد رسی کی توقع نہیں ہے۔ جرمنی اور دیگر یورپی ممالک صرف اشک شوئی کر رہے ہیں۔ کیا محض وزرائے خارجہ کی میٹنگ سے یہ مسئلہ حل ہوجائے گا؟ جارحیت مسلسل جاری ہے۔ فلسطینی مسلمانوں کو شہید کیا جا رہا ہے اور شہیدوں کی تعداد 300 سے تجاوز کرچکی ہے۔ اقوام متحدہ خاموش، عرب لیگ خاموش اور OIC کا کہیں نام و نشان نہیں ہے۔ کیا ان مظلوموں کی آہ بکا کوئی نہیں سنے گا؟؟ یا وہ یونہی صیہونی قوتوں کی جلائی آگ میں راکھ بنتے رہیں گے؟ اے مسلم حکمرانو! یہ خون بھی تمہاری گردنوں پر ہے۔ تمہیں اس خون ناحق کا جواب دینا ہوگا۔ اس دنیا میں یا پھر قیامت کو۔

اے فلسطینی بھائیو! ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ہم تم پر ڈھائے جانے والے مظالم پر لرزہ بر اندام ہیں۔ ہمیں بھی یہود وہنود کی ایک خطرناک آگ کا سامنا ہے۔ ہم آپکی چیخ پکار سن رہے ہیں۔ ہماری فوج دہشت گردوں سے نمٹ رہی ہے۔ حوصلہ رکھو! تم نے افواج پاکستان کو مدد کے لیے پکارا ہے، یقیناً وہ صبح ضرور طلوع ہوگی جب جیوش پاکستان تمہاری مدد کو آئیں گی اور تمہیں جبر و استبداد کے پنجوں سے نکالیں گی۔ وقت قریب ہے تم بھی آزادی کا سویرا دیکھو گے اور اے بیت المقدس کے وارثو! تمہاری جدوجہد ضرور رنگ لائے گی اور اسرائیل کے بارود کی خون آشام آندھیوں کے اندر سے بیت المقدس کی آزادی کا سورج طلوع ہوگا، انشاءاللہ۔


 
Mufti Gulzar Ahmed Naeemi on Such Tv PDF Print E-mail

JavaScript is disabled!
To display this content, you need a JavaScript capable browser.

 
«StartPrev12NextEnd»

Page 1 of 2

Useful Links

  • cherry.jpg
  • pears.jpg
  • peas.jpg
  • strawberry.jpg